ماہ رمضان بطور ماہ صبر و مزاحمت؛ غزوہ بدر کے نبوی اسوہ کی روشنی میں عالمی شیطانی نظام کے خلاف شعوری جدوجہد کی اہمیت
خطبہ جمعۃ المبارک
خطبے کی راہنما قرآنی آیت
قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْؕ-لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌؕ-وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌؕ-اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ (الزمر: 10)
ترجمہ: ”کہہ دو اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو! اپنے ربّ سے ڈرو۔ ان کے لیے جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ہے، اچھا بدلہ ہے، اور اللہ کی زمین کشادہ ہے۔ بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔“
خطبے کے مرکزی نکات
- روزہ اور فرقان کی صلاحیت
- بندگی کے تقاضوں اور تقویٰ کے مابین باہمی تعلق
- ماہِ صیام اور صبر کا تعلق
- صبر کا بنیادی تقاضا: ضبطِ نفس اور استقامت
- ضبطِ نفس اور بہیمیت کی مغلوبیت
- صبر کا دوسرا تقاضا: برائی کا شعور اور مزاحمت
- عہدِ نبویﷺ میں ماہِ صیام کے امور
- موجودہ عالمی سامراجی نظام کی سفاکیت کا جائزہ اور شعوری مزاحمت
- صبر کا تیسرا تقاضا: دشمن سے چوکنا رہنا
- ماہِ صیام میں اجتماعی تربیت کی ضرورت
- اعلیٰ نظریہ پر استقامت کی اہمیت اور اسوہ انبیائے کرام
🔔 بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بیل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
منجانب: رحیمیہ میڈیا