اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تربیت اولاد کی ابتداء – والدین کے لئے اہم رہنمائی

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بچوں کی تربیت، دوران حمل ماں کی ذمہ داریاں، گھر کے ماحول اور ابتدائی عمر کی اسلامی رہنمائی
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تربیت اولاد کی ابتداء – والدین کے لئے اہم رہنمائی

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تربیت اولاد کی ابتداء – والدین کے لئے اہم رہنمائی

تربیت اولاد کی ابتداء

اسلام میں تربیت اولاد کی اہمیت

تربیت اولاد کے اہم ترین فریضہ کی ادائیگی کے لئے واضح رہنمائی یہ دی گئی ہے کہ "علم حاصل کرو مہد سے لحد تک"۔ اس قول سے واضح ہوتا ہے کہ بچے کی تعلیم و تربیت کا آغاز زندگی کے ابتدائی لمحوں ہی سے ہو جاتا ہے۔

اسلام نے نکاح کے لئے دیندار اور اچھے اخلاق والے زوجین کے انتخاب کا حکم دے کر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ تربیت کا عمل دراصل بچے کی پیدائش سے بھی پہلے شروع ہو جاتا ہے۔

دوران حمل ماں کی ذمہ داریاں

دوران حمل ماں کو حسن اخلاق کا نمونہ ہونا چاہئے اور اسے ذہنی طور پر آنے والے بچے کے استقبال کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ علماء کرام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ماں کو اس دور میں نیک اعمال اور تلاوت قرآن میں مصروف رہنا چاہئے۔

منفی جذبات کے اثرات

جدید سائنسی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ذہنی دباؤ، غصہ اور پریشانی جسم میں ہارمونز میں تبدیلی پیدا کرتے ہیں جو براہ راست بچے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

  • پیدائش کے وقت بچے کا وزن کم ہونا
  • جسمانی کمزوری
  • بچے کے مزاج میں چڑچڑاپن
  • نظام ہضم کی خرابی

گھر کے ماحول کا اثر

ماں کا طرز عمل صرف اس کے اپنے اختیار کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ گھر کے ہر فرد کا رویہ بھی اس پر اثر انداز ہوتا ہے۔ گھر کا خوشگوار ماحول بچے کی صحت مند نشوونما کے لئے انتہائی ضروری ہے۔

اسی لئے طبی ماہرین بھی یہ ہدایت دیتے ہیں کہ دوران حمل گھر کے تمام افراد کو گھر کے ماحول کو خوشگوار رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

پیدائش کے بعد ابتدائی تربیت

بچہ دنیا میں آتے ہی اپنے ارد گرد کے ماحول کو محسوس کرنا شروع کر دیتا ہے۔ وہ محبت، نرمی، غصہ اور سختی کے فرق کو جلد پہچان لیتا ہے۔

اسلامی معاشرے میں بچے کی پیدائش کے بعد اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنا سنت ہے تاکہ اس کے دل میں ایمان کی روشنی پیدا ہو۔

دوران رضاعت تربیت

علماء کرام کے مطابق ماں کو چاہئے کہ دودھ پلاتے وقت بسم اللہ پڑھے اور ذکر الہی جاری رکھے کیونکہ ماں کے الفاظ اور جذبات بچے کی شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

اسلام میں دودھ کے اثر کو اس قدر اہم سمجھا گیا ہے کہ چند قطرے دودھ پلانے سے بھی رضاعت کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔

ابتدائی عمر کا حساس دور

بچے کی عمر کے ابتدائی چند ماہ انتہائی حساس ہوتے ہیں۔ اس دوران بچے کا دماغ اور جسم تیزی سے نشوونما پا رہے ہوتے ہیں اور وہ نئی باتیں بہت جلد سیکھتا ہے۔

اسی ابتدائی دور میں شخصیت کی بنیاد رکھ دی جاتی ہے جو پوری زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

Type Your Feedback