البدور البازغة درس 06: طبیعت انسانیہ، الٰہی تجلیات، امام نوع انسانی – مفتی عبدالخالق آزاد

درس ششم البدور البازغہ: طبیعت انسانیہ کی مبادیات، الٰہی تجلیات، امام نوع انسانی کی حقیقت اور انسان کے مختلف مواطن میں وجود۔

📘 البدور البازغة – درس 06: طبیعتِ انسانیہ کی مبادیات، الٰہی تجلیات، امامِ نوعِ انسانی کی حقیقت
(فاتحہ؛ فصل 3)

📅 15 مارچ 2023ء / 22 شعبان 1444ھ 📍 ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور 🎙️ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

📌 درس کے مرکزی نکات

  • مقدمے کی پہلی دو فصلوں کی مباحث کا خلاصہ
  • تیسری فصل میں چار بنیادی امور کا بیان
  • کتاب کے اگلے تین مقالات کی تفہیم‘ مقدمے کی تین فصول کی فہم پر منحصر
  • طبیعتِ انسانی اور اس کی سات خصوصیات
  • (۱) وجودِ طبیعتِ انسانیہ اور انسانوں میں اس کی وحدت کی نوعیت
  • ’’لمحات‘‘ کی روشنی میں وحدت کی حقیقت
  • وحدت اور وجود کی مثال اشخاص کی طرح نہیں!
  • (۲) انسانوں میں طبیعتِ انسانیہ کی بقاء کا پیمانہ
  • اس گہری بات کو سمجھنے کے لیے شاہ صاحبؒ کی تاکید
  • (۳) طبیعتِ انسانیہ کی وجہ سے انسانوں کی معلوم مقدار اور حد بندی
  • (۴) نظرِ مُمعِن (گہری نظر) سے انسانی طبیعت کے امتیازی خواص کی فہم
  • (۵) طبیعتِ انسانیہ کی انسانی صورت کا دوسری مخلوق سے اشتراک نہیں ہوگا
  • (۶) مرتبۂ صفات اور ظرفِ زمان میں انسانی صورتیں الگ الگ تھیں
  • (۷) ہر انسانی رُوح منفرد خصوصیات کے ساتھ ابتداءً ہی الگ شناخت کی حامل تھی
  • دہر اور زمان کی حقیقت و دائرہ کار اور فلاسفہ کی کج فہمی کی نشان دہی
  • تحقیقِ بلیغ کے بعد شاہ صاحبؒ کا طبیعتِ انسانیہ کی حقیقت سے متعلق سوال
  • طبیعتِ انسانی کی اصل فطرت کی گہری حقیقت کا مطالعہ
  • (الف) ہر حقیقت پر رحمٰن ذات کا فیضان اور کامل دسترس
  • طبیعتِ انسانیہ پر رحمٰن کا فیضان اور صورتِ انسانیہ کا وجود
  • (ب) ہر انسان پر فیضانِ رحمٰن کی صورت میں چار چیزیں ضرور آتی ہیں
  • حجۃ اللہ البالغہ سے اس اصول کی توضیح
  • (ج) طبیعتِ انسانیہ کے افاضہ کی حد اور نوعیت بھی طے شدہ
  • اِفاضے کا معلوم وزن اور حد ‘رحمٰن کی شُئُون میں سے ایک شان کا اظہار
  • انسان دنیا میں اسمائے الہیہ میں سے ایک خاص اسم جزئی
  • فلاسفہ کی اصطلاح میں اسے عقلِ طِباعی کہا جاتا ہے
  • حقائقِ کائنات پر فیضانِ رحمٰن کا قرآن و حدیث سے ثبوت کا سوال کرنے والوں کو تنبیہ
  • بدورِ بازغہ پڑھنے والوں پر خبط سوار نہیں ہونا چاہیے!
  • وحدتِ انسانیت کا بنیادی مرکز و مِحور؛ امامِ نوعِ انسانی
  • فلاسفہ کے غلط تصوُّر کا ردّ
  • ہر فلک اپنی حرکتِ دَوری کے لیے امام؛ فلکِ اَطلس کا محتاج؛ فلاسفہ کا مُسلَّمہ اُصول
  • فلاسفہ ہر فلک کا امام مانتے ہیں لیکن انواعِ طبائعِ ارضیہ کے امام کے منکر کیوں؟
  • بغیر امام اور ماڈل کے امت اور نوع کا وجود کیسے؟ فلاسفہ کی کمی فہمی پر سوال
  • کتاب پڑھنے والے شک اور لالچ مت کر!
  • اسمِ الہی کا طبیعت الکل، نفس الکل اور شخصِ اکبر میں سریان کا عمل
  • طبیعت کا اشخاص میں سریان‘ نظرِ جلّی میں
  • شخص کی اپنے اسم کے ساتھ نسبت کی وضاحت
  • اسم کے تمام اثرات کامل طور پر ہر شخص میں پائے جاتے ہیں
  • باریک بینی سے طبیعت کے اشخاص میں سرایت کے معاملے کی وضاحت
  • (ا) تمام انسانوں میں جاری‘ تدبیر الکل؛ طبیعتِ انسانیہ سے وضاحت
  • (ب) اسمِ جزئی کے ظُہور کے مختلف مراحِل سے وضاحت
  • حدبُ الاسم کی بنیاد پر معرفتِ خداوندی یا نفس کی ساخت لیکن استعدادیں مختلف
  • ہر انسان کی ترقیات اسمِ مربّی سے وابستہ ہیں
  • کثرت سے ذکر کرنے والے ’’مفرِّدین‘‘ کو اُوپر کے دائرے کا علم تک رسائی
  • کثرت سے ذکر کرنے والوں کے سامنے کائنات کی وحدتِ کبریٰ روشن
  • (ج) تدبیرِ الٰہی کے تصادم سے اسمائے جزئیہ کا ٹکراؤ؛ اس مثال سے وضاحت
  • ملّتوں کے تحت اسمائے جزئیہ سے مزید وضاحت
  • ان تینوں علوم کا اِدارک صرف علمائے ربّانیین کو حاصل
  • علماء باللہ کے ہاں اس کا نام ”هیأة سریانیة“
  • کائنات‘ اسماءُ الحسنیٰ کا مَظہر
  • امامِ نوعِ انسانی دراصل وہ اسماء ہیں جن کے تحت انسانی نظام کام کر رہا ہے
  • اَشخاص میں مِسطرِ انسانی اور امامِ نوعِ انسانی کے مُعِدَّات کا فرق
  • روزمرہ کے واقعات کا دو مرتبوں میں رحمٰن ذات کے زیرِ اثر وقوع
  • ہر مُمکن الوجود ضرور وجود میں آئے گا
  • حضرتِ انسان پر تمام اِماموں کا فیضان لیکن امامِ نوعِ انسانی حکمران
  • عالمِ اَمر و عقل کی حقیقت
  • ”دَرَّاکةُ الموجودةِ الکلِّ“ کی اصطلاح لانے کی وجہ
  • عالمِ مُجرَّد و ناسوت میں کارفرماں قوتِ متوسِّطہ؛ عالمِ مثال اور اس کی شان
  • مَشائیہ بھی عالمِ مثال کو قوتِ متوسِّطہ مانتے کے قائل
  • عالمِ مثال کا مکمل مظَہر‘ خیالُ الْعرش
  • انسان کے مختلف عوالِم میں چار وجود؛ 1-انسان کا وجودِ جبروتی 2- وجودِ روحانی
  • 3- وجودِ مثالی 4- وجودِ ناسوتی
  • اگلے تین مقالوں میں عالمِ اجسام میں موجود انسان سے متعلق گفتگو
🔔 بروقت مطلع ہونے کے لیے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لیے بل آئیکون دبا دیں۔

Post a Comment

Type Your Feedback