📘 البدور البازغة – درس 06: طبیعتِ انسانیہ کی مبادیات، الٰہی تجلیات، امامِ نوعِ انسانی کی حقیقت
(فاتحہ؛ فصل 3)
📌 درس کے مرکزی نکات
- مقدمے کی پہلی دو فصلوں کی مباحث کا خلاصہ
- تیسری فصل میں چار بنیادی امور کا بیان
- کتاب کے اگلے تین مقالات کی تفہیم‘ مقدمے کی تین فصول کی فہم پر منحصر
- طبیعتِ انسانی اور اس کی سات خصوصیات
- (۱) وجودِ طبیعتِ انسانیہ اور انسانوں میں اس کی وحدت کی نوعیت
- ’’لمحات‘‘ کی روشنی میں وحدت کی حقیقت
- وحدت اور وجود کی مثال اشخاص کی طرح نہیں!
- (۲) انسانوں میں طبیعتِ انسانیہ کی بقاء کا پیمانہ
- اس گہری بات کو سمجھنے کے لیے شاہ صاحبؒ کی تاکید
- (۳) طبیعتِ انسانیہ کی وجہ سے انسانوں کی معلوم مقدار اور حد بندی
- (۴) نظرِ مُمعِن (گہری نظر) سے انسانی طبیعت کے امتیازی خواص کی فہم
- (۵) طبیعتِ انسانیہ کی انسانی صورت کا دوسری مخلوق سے اشتراک نہیں ہوگا
- (۶) مرتبۂ صفات اور ظرفِ زمان میں انسانی صورتیں الگ الگ تھیں
- (۷) ہر انسانی رُوح منفرد خصوصیات کے ساتھ ابتداءً ہی الگ شناخت کی حامل تھی
- دہر اور زمان کی حقیقت و دائرہ کار اور فلاسفہ کی کج فہمی کی نشان دہی
- تحقیقِ بلیغ کے بعد شاہ صاحبؒ کا طبیعتِ انسانیہ کی حقیقت سے متعلق سوال
- طبیعتِ انسانی کی اصل فطرت کی گہری حقیقت کا مطالعہ
- (الف) ہر حقیقت پر رحمٰن ذات کا فیضان اور کامل دسترس
- طبیعتِ انسانیہ پر رحمٰن کا فیضان اور صورتِ انسانیہ کا وجود
- (ب) ہر انسان پر فیضانِ رحمٰن کی صورت میں چار چیزیں ضرور آتی ہیں
- حجۃ اللہ البالغہ سے اس اصول کی توضیح
- (ج) طبیعتِ انسانیہ کے افاضہ کی حد اور نوعیت بھی طے شدہ
- اِفاضے کا معلوم وزن اور حد ‘رحمٰن کی شُئُون میں سے ایک شان کا اظہار
- انسان دنیا میں اسمائے الہیہ میں سے ایک خاص اسم جزئی
- فلاسفہ کی اصطلاح میں اسے عقلِ طِباعی کہا جاتا ہے
- حقائقِ کائنات پر فیضانِ رحمٰن کا قرآن و حدیث سے ثبوت کا سوال کرنے والوں کو تنبیہ
- بدورِ بازغہ پڑھنے والوں پر خبط سوار نہیں ہونا چاہیے!
- وحدتِ انسانیت کا بنیادی مرکز و مِحور؛ امامِ نوعِ انسانی
- فلاسفہ کے غلط تصوُّر کا ردّ
- ہر فلک اپنی حرکتِ دَوری کے لیے امام؛ فلکِ اَطلس کا محتاج؛ فلاسفہ کا مُسلَّمہ اُصول
- فلاسفہ ہر فلک کا امام مانتے ہیں لیکن انواعِ طبائعِ ارضیہ کے امام کے منکر کیوں؟
- بغیر امام اور ماڈل کے امت اور نوع کا وجود کیسے؟ فلاسفہ کی کمی فہمی پر سوال
- کتاب پڑھنے والے شک اور لالچ مت کر!
- اسمِ الہی کا طبیعت الکل، نفس الکل اور شخصِ اکبر میں سریان کا عمل
- طبیعت کا اشخاص میں سریان‘ نظرِ جلّی میں
- شخص کی اپنے اسم کے ساتھ نسبت کی وضاحت
- اسم کے تمام اثرات کامل طور پر ہر شخص میں پائے جاتے ہیں
- باریک بینی سے طبیعت کے اشخاص میں سرایت کے معاملے کی وضاحت
- (ا) تمام انسانوں میں جاری‘ تدبیر الکل؛ طبیعتِ انسانیہ سے وضاحت
- (ب) اسمِ جزئی کے ظُہور کے مختلف مراحِل سے وضاحت
- حدبُ الاسم کی بنیاد پر معرفتِ خداوندی یا نفس کی ساخت لیکن استعدادیں مختلف
- ہر انسان کی ترقیات اسمِ مربّی سے وابستہ ہیں
- کثرت سے ذکر کرنے والے ’’مفرِّدین‘‘ کو اُوپر کے دائرے کا علم تک رسائی
- کثرت سے ذکر کرنے والوں کے سامنے کائنات کی وحدتِ کبریٰ روشن
- (ج) تدبیرِ الٰہی کے تصادم سے اسمائے جزئیہ کا ٹکراؤ؛ اس مثال سے وضاحت
- ملّتوں کے تحت اسمائے جزئیہ سے مزید وضاحت
- ان تینوں علوم کا اِدارک صرف علمائے ربّانیین کو حاصل
- علماء باللہ کے ہاں اس کا نام ”هیأة سریانیة“
- کائنات‘ اسماءُ الحسنیٰ کا مَظہر
- امامِ نوعِ انسانی دراصل وہ اسماء ہیں جن کے تحت انسانی نظام کام کر رہا ہے
- اَشخاص میں مِسطرِ انسانی اور امامِ نوعِ انسانی کے مُعِدَّات کا فرق
- روزمرہ کے واقعات کا دو مرتبوں میں رحمٰن ذات کے زیرِ اثر وقوع
- ہر مُمکن الوجود ضرور وجود میں آئے گا
- حضرتِ انسان پر تمام اِماموں کا فیضان لیکن امامِ نوعِ انسانی حکمران
- عالمِ اَمر و عقل کی حقیقت
- ”دَرَّاکةُ الموجودةِ الکلِّ“ کی اصطلاح لانے کی وجہ
- عالمِ مُجرَّد و ناسوت میں کارفرماں قوتِ متوسِّطہ؛ عالمِ مثال اور اس کی شان
- مَشائیہ بھی عالمِ مثال کو قوتِ متوسِّطہ مانتے کے قائل
- عالمِ مثال کا مکمل مظَہر‘ خیالُ الْعرش
- انسان کے مختلف عوالِم میں چار وجود؛ 1-انسان کا وجودِ جبروتی 2- وجودِ روحانی
- 3- وجودِ مثالی 4- وجودِ ناسوتی
- اگلے تین مقالوں میں عالمِ اجسام میں موجود انسان سے متعلق گفتگو
🔔
بروقت مطلع ہونے کے لیے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لیے بل آئیکون دبا دیں۔