📘 البدور البازغة – درس 04: تخلیق کائنات، نفس اور صورت کا باہم ربط
(فاتحہ؛ فصل 2)
📌 درس کے مرکزی نکات
- مقدمہ کی پہلی فصل کا خلاصہ
- "العرش" و "الماء" (عرش اور پانی) کی تخلیق اور ان کے ملاپ سے کائنات کا وجود
- دوسری فصل میں پانچ اُمور زیرِ بحث
- پہلی بحث؛ نفس (روح) اور صورت کے باہمی ربط و تعلق میں فلاسفہ کی غلط فہمیاں
- مسلمہ قاعدہ؛ موجودات میں طبائع جوہریہ و ارضیہ کا ملاپ
- ہر تخلیق کے مخصوص خواص، اس سے جدا نہیں ہو سکتے!
- طبائعِ عرضیہ کا وجود‘طبائع جوہریہ کے بغیر ممکن نہیں!
- موجودات کے مشترکہ آثار و خواص
- اس اصول کی اساس پر صورتِ جسمیہ کی تخریج
- صورتِ جسمیہ کے چار ضروری اُمور؛
- ۱۔ جسم کی کوئی شکل ہوگی۔ (شکل کی تعریف اور مثال سے وضاحت)
- ۲۔ ہر جسم کسی نہ کسی حَیِّز (مکان) میں ہوگا
- ۳۔ زمان کے بغیر کوئی جسم اپنا وجود نہیں رکھتا!
- ۴۔ جسم کی کمیت (مقدار)
- موجودات صورتِ جسمیہ رکھتی ہیں
- صورتِ جسمیہ کی اگلی شکل ”صورتِ عُنصُریہ“
- عُنصُر کی تعریف
- ہر عنصر جداگانہ خصوصیت کا حامل، مثالوں سے وضاحت
- فلکیاتی عناصر کی خصوصیات
- عناصر ارضیہ و فَلَکیہ کے مَوَالِید پر اثرات اور صورتِ مُتَوَلِّدَہ کا وجود
- صورتِ نامِیہ کا ارتقاء
- صورتِ حیوانیہ اور اس کی خصوصیات
- صورتِ انسانیہ کے تحت صورتِ شخصیہ
- نُفُوس و صُوَر کا باہمی تَشَابُک
- فلاسفہ کا مغالطہ؛ نفوس‘ صور کا حصہ نہیں۔ شاہ صاحبؒ کا اس پر رد
- مولانا سندھیؒ کی شرح و توضیح
- شاہ صاحبؒ کی حکماء کے مغالطے پر کڑی تنقید
- فلاسفہ کی کم فہمی پر دلیل
- فلاسفہ کے مغالطے کی وضاحت
- صورتوں سے متعلق "الخیر الکثیر" میں بنیادی اُصول اور ضابطہ
- نفوس اور صورتوں کے درمیان افتراق کا غلط نظریہ
- اگلے درس میں ہُیُولیٰ اور صورتِ جسمیہ کے تَشَابُک کے بارے میں گفتگو
🔔
بروقت مطلع ہونے کے لیے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لیے بل آئیکون دبا دیں۔