اسلام کا نظام طہارت: سنت نبوی اور جدید سائنس کی روشنی میں
مقدمہ
اسلام ایک فطری اور طبیعی مذہب ہے۔ اسلام کے فطری دین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی تمام تر تعلیمات اس دنیا میں انسان کے فطری تقاضوں اور ضرورتوں کو پورا کرتی ہیں لہذا اسلام کی تمام تر تعلیمات کائنات میں روبہ عمل فطری اصولوں کے عین مطابق ہیں۔ اسلام کے شرعی قوانین کے مجموعے میں ایسا کوئی بھی قانون نہیں ہے جو اصول فطرت سے متصادم ہوتا ہو لہذا اسلامی قوانین کے اتباع میں انسانی جسم اور روح کی صحت و سلامتی پوشیدہ اور مضمر ہے۔ حسب ذیل آیت کریمہ اس کی بخوبی وضاحت کرتی ہے:
"سو تم یکسو ہو کر دین کے سیدھے راستے پر چلے چلو، جو اللہ کی فطرت ہے جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، خدا کی بنائی ہوئی خلقت (اور فطرت) میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہو سکتی۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔"
یہ آیت کریمہ فطرت و شریعت میں مطابقت اور ان دونوں قسم کے قوانین کے انسانی جسم اور اس کی خلقت کے ساتھ ہم آہنگی کو واضح اور دوٹوک طور پر ظاہر کرتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں دین، فطرت اور انسانی خلقت تینوں کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ شرعی احکام کی اتباع ہی دراصل عین فطرت ہے اور اس کی اتباع میں انسان کے فطری تقاضے پورے ہوتے ہیں۔
اسی طرح قرآن مجید میں روزوں کے احکام بیان کرنے کے بعد ایک جگہ یوں فرمایا گیا ہے:
"روزہ رکھنا تمہارے لئے باعث خیر ہے، اگر تم جان جاؤ۔"
اس آیت کریمہ میں ایک طرف یہ بتایا جا رہا ہے کہ روزہ رکھنا خود انسان کے لئے انتہائی فائدہ مند ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسری طرف اس میں انسان کو روزہ کے فوائد جاننے کیلئے ابھارا جا رہا ہے۔ جدید سائنس نے آج انسانی جسم کے لئے روزوں کے بے پناہ طبی فوائد کو ظاہر کر دیا ہے۔
📌 اہم نکتہ:
شرعی احکام کے دو پہلو ہیں: پہلا تعبدی اور دوسرا فطری۔ شرعی احکام کا تعبدی پہلو یہ ہے کہ ان احکام کی اتباع سے خدائی احکام کی تکمیل ہوتی ہے۔ شرعی احکام کا فطری پہلو یہ ہے کہ ان احکام کی اتباع کا فائدہ فطری اور طبیعی طور پر اس دنیا میں خود انسان کو ہوتا ہے۔
جسمانی پاکی صفائی کے متعلق اسلامی احکام
اسلام دین جمال بھی ہے اور دین کمال بھی۔ اسلام نے پاکی صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے:
الطهور شطر الایمان (صحیح مسلم: ۳۳)
"پاکی صفائی نصف ایمان ہے۔"
پاکی صفائی اختیار کرن کے متعدد تفصیلی طریقے بھی احادیث میں بیان کئے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک حدیث حسب ذیل ہے:
عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: عشر من الفطرة: قص الشارب، وإعفاء اللحية، والسواك، واستنشاق الماء، وقص الأظفار، وغسل البراجم ونتف الإبط، وحلق العانة، وانتقاص الماء قال مصعب: ونسيت العاشرة إلا أن تكون المضمضة (صحيح مسلم: ٢٦١)
"حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس چیزیں فطرت کا حصہ ہیں: مونچھیں تراشنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ناخن کاٹنا، انگلیوں کے پوروں کو دھونا، بغل کے بال اکھیڑنا، زیر ناف بال مونڈنا، اور پانی سے استنجاء کرنا۔ مصعب (راوی) کہتے ہیں: میں دسواں بھول گیا الا یہ کہ وہ کلی کرنا ہے۔"
١. مونچھیں تراشنا
٢. داڑھی بڑھانا
٣. مسواک کرنا
٤. ناک میں پانی ڈالنا
٥. ناخن تراشوانا
٦. استنجا کے بعد پانی کا استعمال
٧. ہاتھوں کی انگلیوں کے پوروں کو دھونا
٨. بغل اور زیر ناف بال کاٹنے کا حکم
٩. کلی کرنا
وضو کی اہمیت جدید سائنس کی روشنی میں
اسلام نے وضو کا جو طریقہ مشروع کیا ہے، وہ طبی نقطہ نظر سے انسانی صحت عامہ کے لئے انتہائی مفید پایا گیا ہے:
احادیث نبوی کا اعجاز
اسلام میں انفرادی و شخصی پاکی صفائی کے متعلق احکام کا یہ سرسری جائزہ ہمیں بتاتا ہے کہ اسلام کے شرعی احکام بے مقصد نہیں ہیں بلکہ ان میں بدرجہ اتم مقصدیت پائی جاتی ہے۔ ان قوانین کی اتباع سے ایک طرف خدائی احکام کی تعمیل ہوتی ہے تو دوسری طرف اس کا فطری اور طبیعی فائدہ خود انسان ہی کو ہوتا ہے۔
📌 خلاصہ:
جس طرح قرآن میں موجود سائنسی حقائق کی تطبیق سے قرآن کی اعجاز علمی کا اثبات ہوتا ہے، اسی طرح احادیث نبوی کے معارف اور جدید سائنس میں تطبیق سے احادیث کا علمی اعجاز بھی ثابت ہوتا ہے۔ یہ احادیث کی حجیت اور قطعیت پر انتہائی ٹھوس دلائل ہیں۔
📄 مضمون پی ڈی ایف فارم میں
اگر آپ اس مضمون کو پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ کرنا چاہتے ہیں، تو یہاں لنک دستیاب ہوگا:
اس مضمون کی پی ڈی ایف فائل ڈاؤنلوڈ کریں:
⏳ پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ کریں (جلد دستیاب ہوگا)پی ڈی ایف لنک جلد ہی فراہم کر دیا جائے گا۔
