اسلام کا نظام طہارت : سنت نبوی اور جدید سائنس کی روشنی میں | مولانا انیس الرحمن ندوی | بشکریہ : ماہنامہ الحق نومبر، دسمبر ۲۰۲۵

اسلامی نظام طہارت کے طبی اور سائنسی فوائد جانیں۔ سنت نبویﷺ میں بیان کردہ طہارت کے اصول، جدید سائنس کی نظر میں کیسے انسانی صحت کے لیے مفید ہیں۔ مونچھیں

اسلام کا نظام طہارت: سنت نبوی اور جدید سائنس کی روشنی میں

مولانا انیس الرحمن ندوی
بشکریہ: ماہنامہ الحق نومبر، دسمبر ۲۰۲۵

مقدمہ

اسلام ایک فطری اور طبیعی مذہب ہے۔ اسلام کے فطری دین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی تمام تر تعلیمات اس دنیا میں انسان کے فطری تقاضوں اور ضرورتوں کو پورا کرتی ہیں لہذا اسلام کی تمام تر تعلیمات کائنات میں روبہ عمل فطری اصولوں کے عین مطابق ہیں۔ اسلام کے شرعی قوانین کے مجموعے میں ایسا کوئی بھی قانون نہیں ہے جو اصول فطرت سے متصادم ہوتا ہو لہذا اسلامی قوانین کے اتباع میں انسانی جسم اور روح کی صحت و سلامتی پوشیدہ اور مضمر ہے۔ حسب ذیل آیت کریمہ اس کی بخوبی وضاحت کرتی ہے:

فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْفَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ (الروم: ٣٠)

"سو تم یکسو ہو کر دین کے سیدھے راستے پر چلے چلو، جو اللہ کی فطرت ہے جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، خدا کی بنائی ہوئی خلقت (اور فطرت) میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہو سکتی۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔"

یہ آیت کریمہ فطرت و شریعت میں مطابقت اور ان دونوں قسم کے قوانین کے انسانی جسم اور اس کی خلقت کے ساتھ ہم آہنگی کو واضح اور دوٹوک طور پر ظاہر کرتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں دین، فطرت اور انسانی خلقت تینوں کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ شرعی احکام کی اتباع ہی دراصل عین فطرت ہے اور اس کی اتباع میں انسان کے فطری تقاضے پورے ہوتے ہیں۔

اسی طرح قرآن مجید میں روزوں کے احکام بیان کرنے کے بعد ایک جگہ یوں فرمایا گیا ہے:

وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِن كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (البقرة: ١٨٤)

"روزہ رکھنا تمہارے لئے باعث خیر ہے، اگر تم جان جاؤ۔"

اس آیت کریمہ میں ایک طرف یہ بتایا جا رہا ہے کہ روزہ رکھنا خود انسان کے لئے انتہائی فائدہ مند ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسری طرف اس میں انسان کو روزہ کے فوائد جاننے کیلئے ابھارا جا رہا ہے۔ جدید سائنس نے آج انسانی جسم کے لئے روزوں کے بے پناہ طبی فوائد کو ظاہر کر دیا ہے۔

📌 اہم نکتہ:

شرعی احکام کے دو پہلو ہیں: پہلا تعبدی اور دوسرا فطری۔ شرعی احکام کا تعبدی پہلو یہ ہے کہ ان احکام کی اتباع سے خدائی احکام کی تکمیل ہوتی ہے۔ شرعی احکام کا فطری پہلو یہ ہے کہ ان احکام کی اتباع کا فائدہ فطری اور طبیعی طور پر اس دنیا میں خود انسان کو ہوتا ہے۔

جسمانی پاکی صفائی کے متعلق اسلامی احکام

اسلام دین جمال بھی ہے اور دین کمال بھی۔ اسلام نے پاکی صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے:

حدیث:
الطهور شطر الایمان (صحیح مسلم: ۳۳)
"پاکی صفائی نصف ایمان ہے۔"

پاکی صفائی اختیار کرن کے متعدد تفصیلی طریقے بھی احادیث میں بیان کئے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک حدیث حسب ذیل ہے:

حدیث:
عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: عشر من الفطرة: قص الشارب، وإعفاء اللحية، والسواك، واستنشاق الماء، وقص الأظفار، وغسل البراجم ونتف الإبط، وحلق العانة، وانتقاص الماء قال مصعب: ونسيت العاشرة إلا أن تكون المضمضة (صحيح مسلم: ٢٦١)

"حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس چیزیں فطرت کا حصہ ہیں: مونچھیں تراشنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ناخن کاٹنا، انگلیوں کے پوروں کو دھونا، بغل کے بال اکھیڑنا، زیر ناف بال مونڈنا، اور پانی سے استنجاء کرنا۔ مصعب (راوی) کہتے ہیں: میں دسواں بھول گیا الا یہ کہ وہ کلی کرنا ہے۔"

١. مونچھیں تراشنا

مونچھیں بڑی ہونے سے ان میں جراثیم کے اٹکنے کا خطرہ رہتا ہے۔ ایس اور یس (S.Aureus) نامی جرثومہ جو صحت عامہ کا ایک سنگین مسئلہ سمجھا جاتا ہے، مونچھوں میں جمع ہو سکتا ہے۔ یہ جلد کے انفیکشن سے لے کر نمونیا، گردن توڑ بخار اور فوڈ پوائزنگ جیسی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔

٢. داڑھی بڑھانا

برطانیہ میں حالیہ تحقیق کے مطابق داڑھی میں اینٹی بایوٹک بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جو انسان کو جلدی بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ ایک اور تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ داڑھی جلد کے کینسر کے خطرہ کو کم کرتی ہے۔

٣. مسواک کرنا

جدید سائنسی تحقیقات کے مطابق مسواک دانتوں کی خرابی اور سٹرن کا مقابلہ کرتی ہے، دانتوں کے نقصاندہ جراثیم اور بیکٹیریا کا مقابلہ کرتی ہے، دانتوں کی بدبو کم کرتی ہے، اور مسوڑھوں کو مضبوط کرتی ہے۔

٤. ناک میں پانی ڈالنا

طبی اصطلاح میں Nasal irrigation کہلانے والا یہ عمل انتہائی مفید ہے۔ یہ بلغم، پیتھوجینز، الرجین یا دیگر غلاظتوں کو صاف کرتا ہے۔ پیتھوجینز میں بیکٹیریا اور وائرس شامل ہوتے ہیں۔

٥. ناخن تراشوانا

لمبے ناخنوں میں جراثیم اور بیکٹیریا ہوتے ہیں جو انسانی ناخنوں سے پیٹ میں پہنچتے ہیں۔ جدید طبی تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ ناخن کاٹنے سے دوران خون تیز ہوتا ہے۔

٦. استنجا کے بعد پانی کا استعمال

یہ انفیکشن اور جلد کی جلن کو روکتا ہے، بیکٹیریا اور بدبو کو صاف کرتا ہے، اور مثانے اور خمیر کے انفیکشن کو روکتا ہے۔

٧. ہاتھوں کی انگلیوں کے پوروں کو دھونا

سینٹر فار ڈسیس کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی) کی تحقیق کے مطابق ہاتھ دھونے سے سانس اور معدے کے بعض انفیکشن کی شرح ۲۳ سے ۴۸ فیصد تک کم ہو جاتی ہے۔

٨. بغل اور زیر ناف بال کاٹنے کا حکم

بغل اور زیر ناف بال نکالنے سے جسم انسانی کے یہ حصے مختلف قسم کے جراثیم اور بیکٹیریا سے محفوظ رہتے ہیں۔ ان حصوں میں پسینہ اور دیگر رطوبتیں خارج ہوتی ہیں، اس لیے جراثیم کی آماجگاہ بننے کا خطرہ رہتا ہے۔

٩. کلی کرنا

نمک کے پانی سے کلی کرنا گلے کی خراش کو ختم کرتا ہے، گلے کی سوزش کو کم کرتا ہے، بیکٹیریا کو ختم کرتا ہے، سانس کی بدبو کو دور کرتا ہے، اور منھ کے چھالے اور سوجن کم کرتا ہے۔

وضو کی اہمیت جدید سائنس کی روشنی میں

اسلام نے وضو کا جو طریقہ مشروع کیا ہے، وہ طبی نقطہ نظر سے انسانی صحت عامہ کے لئے انتہائی مفید پایا گیا ہے:

وضو میں جن اعضاء کو دھونے کا حکم دیا گیا ہے، اس سے انسان کو بیماری سے بچانے میں مدد ملتی ہے۔ پیتھوجینز ہمارے جسم میں منہ، ناک اور آنکھوں کے ذریعے داخل ہو سکتے ہیں۔
وضو مختلف انفیکشنز کے امکانات کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے، جیسے زبان کے انفیکشن، آنتوں کے انفیکشن، جلد، آنکھوں اور سانس کے انفیکشن بشمول کوڈ-۱۹ وغیرہ۔
وضو مرکزی اعصابی نظام پر مثبت اثر ڈالتا ہے، جس سے تناؤ، غصہ اور دیگر ذہنی بیماریوں کو کم کیا جا سکتا ہے۔ تحقیق میں پایا گیا کہ مسلمانوں میں ذہنی تناؤ کے کم ہون کی وجہ یہ ہے کہ وہ روزانہ کم از کم پانچ مرتبہ وضو کرتے ہیں۔
وضو رگوں میں خون کی گردش کو بہتر بناتا ہے۔ تحقیق میں پایا گیا ہے کہ وضو کے شروع میں ہاتھوں پر پانی ڈالنے سے جسم کی رگیں متحرک ہو جاتی ہیں اور اس کے اثرات آہستہ آہستہ چہرے اور دماغ کی رگوں تک پہنچتے ہیں۔

احادیث نبوی کا اعجاز

اسلام میں انفرادی و شخصی پاکی صفائی کے متعلق احکام کا یہ سرسری جائزہ ہمیں بتاتا ہے کہ اسلام کے شرعی احکام بے مقصد نہیں ہیں بلکہ ان میں بدرجہ اتم مقصدیت پائی جاتی ہے۔ ان قوانین کی اتباع سے ایک طرف خدائی احکام کی تعمیل ہوتی ہے تو دوسری طرف اس کا فطری اور طبیعی فائدہ خود انسان ہی کو ہوتا ہے۔

📌 خلاصہ:

جس طرح قرآن میں موجود سائنسی حقائق کی تطبیق سے قرآن کی اعجاز علمی کا اثبات ہوتا ہے، اسی طرح احادیث نبوی کے معارف اور جدید سائنس میں تطبیق سے احادیث کا علمی اعجاز بھی ثابت ہوتا ہے۔ یہ احادیث کی حجیت اور قطعیت پر انتہائی ٹھوس دلائل ہیں۔

📄 مضمون پی ڈی ایف فارم میں

اگر آپ اس مضمون کو پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ کرنا چاہتے ہیں، تو یہاں لنک دستیاب ہوگا:

اس مضمون کی پی ڈی ایف فائل ڈاؤنلوڈ کریں:

⏳ پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ کریں (جلد دستیاب ہوگا)

پی ڈی ایف لنک جلد ہی فراہم کر دیا جائے گا۔

Post a Comment

Type Your Feedback