شریعت میں عرف کا اعتبار اور اس کے حدود و قیود مرتب: محمد مصعب

شریعت میں عرف کا اعتبار اور اس کے حدود و قیود

فقہی اصولوں کا تحقیقی مطالعہ
شریعت میں عرف کا اعتبار اور اس کے حدود و قیود کتاب کا سرورق

شریعت میں عرف کا اعتبار اور اس کے حدود و قیود

مرتب: محمد مصعب معین مفتی دار الافتاء، دارالعلوم دیوبند
نظر ثانی: حضرت مولانا مفتی زین الاسلام صاحب قاسمی اللہ آبادی مفتی دارالعلوم دیوبند
ناشر: مکتبه علم و فقه، دیوبند

📖 کتاب کا نام

شریعت میں عرف کا اعتبار اور اس کے حدود و قیود

✍️ مرتب

محمد مصعب معین مفتی

دار الافتاء، دارالعلوم دیوبند

🔍 نظر ثانی

مفتی زین الاسلام قاسمی اللہ آبادی

مفتی دارالعلوم دیوبند

🏢 ناشر

مکتبه علم و فقه، دیوبند

📅 اشاعت اول

رمضان ۱۴۳۶ھ

جولائی ۲۰۱۵ء

📅 اشاعت دوم

محرم ۱۴۴۰ھ

ستمبر ۲۰۱۸ء

📄 صفحات

256 صفحات

📚 کتاب کا تعارف

پہلا اقتباس:

عرف کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ احکام شرعیہ میں اس کے معتبر ہونے کا مطلب کیا ہے؟ کیا اُس کے اثر و رسوخ کا دائرہ شریعت میں متعین ہے ؟ کیا عرف کی تبدیلی سے ہر طرح کے احکام بدل سکتے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں، جو عمو ماذہنوں میں گردش کرتے رہتے ہیں، واقعہ یہ ہے کہ متجددین کا اس وقت یہ نعرہ کثرت سے سننے میں آتا ہے کہ: ” زمانہ بدل گیا ہے، حالات میں تبدیلی آگئی ہے، اس لیے احکام شرعیہ میں بھی تبدیلی آنی چاہیے، وہ اپنے اس نعرے کو فقہائے کرام کے ان جملوں سے مدلل بھی کرتے ہیں: تَغَيَّرُ الْأَحْكَامُ بِتَغَيْرِ الْعُرْفِ، لَا يُنْكَرُ تَغَيَّرُ الْأَحْكَامِ بِتَغَيرِ الزَّمَانِ، هَذَا يَجُوزُ لِلتَّعَامُلِ، هَذَا يَجُوزُ لِلْعُرْفِ "۔

اس وقت جب بھی کوئی نیا مسئلہ سامنے آتا ہے، مثلاً : بیع وشرا کی کوئی نئی شکل لوگوں کے مابین رائج ہوتی ہے یا اجارے کی کسی نئی شکل کا رواج ہو جاتا ہے یا زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی کوئی بھی نئی صورت لوگوں کے مابین عام ہوتی ہے، جس پر شرعی نقطہ نظر سے غور و فکر کی ضرورت پڑتی ہے، تو ایسے موقعوں پر نئی صورتوں پر حکم شرعی کی تطبیق میں عرف کی بات کثرت سے سننے میں آتی ہے۔

دوسرا اقتباس:

حقیقت یہ ہے کہ ایک طرف عرف کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، اُس کا احکام شرعیہ میں موثر ہونا اور فقہائے کرام کا اپنے اجتہادات میں اُس کا لحاظ کرنا مشہور و معروف ہے، اس کا انکار ایک مسلمہ حقیقت کے انکار کے مترادف ہے، فقہ کی کتابوں میں اس کی مثالیں شمار سے باہر ہیں؛ لیکن دوسری طرف عرف کا سہارا لے کر اور اس کی اعتباریت کا غلط مفہوم اور غلط معنی مراد لے کر، جس طرح دین و شریعت کی روح کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور منصوص مسائل میں بھی تبدیلی کی کوششیں کی گئی ہیں اس کا بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔

اس لیے ضروری ہے کہ عرف کی شرعی حیثیت پر اس طرح بحث کی جائے کہ ایک طرف احکام شرعیہ میں عرف کی اہمیت اور اس کا اثر و رسوخ اپنی جگہ باقی رہے اور دوسری طرف اُس اہمیت کے مظان اور دائرے بھی متعین ہو جائیں؟ اس لیے کہ مطلق عرف کے بدلنے سے ہر طرح کے احکام میں تبدیلی نہیں ہو سکتی؛ لہذا اس بات کی تنقیح کی ضرورت ہے کہ کسی طرح کے احکام میں عرف کی تبدیلی مؤثر ہے؟ اور کس طرح کے احکام میں عرف کی تبدیلی کا کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا؟

📖 مکمل کتاب آن لائن پڑھیں

نیچے دیے گئے PDF ویور میں پوری کتاب صفحہ بہ صفحہ موجود ہے

💡 استعمال کی ہدایات:

1. PDF کو مکمل اسکرین پر دیکھنے کے لیے اوپر دائیں کونے میں ▢ آئیکن پر کلک کریں
2. صفحات تبدیل کرنے کے لیے سائیڈ پر موجود سکرول بار استعمال کریں
3. زوم ان/آؤٹ کرنے کے لیے Ctrl+ (کنٹرول پلس) یا Ctrl- (کنٹرول مائنس) دبائیں
4. موبائل پر دو انگلیوں سے پنچ کر کے زوم کریں

📥 کتاب ڈاؤنلوڈ کریں

📕 کتاب ڈاؤنلوڈ کریں (PDF)

فائل: شریعت میں عرف کا اعتبار اور اس کے حدود و قیود | صفحات: 256

إرسال تعليق

Type Your Feedback