بیت الحکمت ولی اللہی ، جامعہ ملیہ دہلی
مدرسہ قاسم العلوم ، لاہور
۱۵ مارچ ۹۴۴ هندی
(زمزم، لاہور، اپریل ۱۹۴۵ء)
مقدمہ
اکثر دوستوں کی خواہش ہے کہ جامعہ ملیہ دہلی میں بیت الحکمت ولی اللہی کا جو مرکز قائم کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد واضح الفاظ میں بیان کر دیا جائے ۔ تاکہ جو لوگ اس مقصد سے ہمدردی رکھتے ہوں ان کو ایک نقطہ پر جمع کرنے میں آسانی ہو۔
تمثیل
فرض کیجئے کہ ایک شخص انسان کے بدن کے تمام حصوں کے نام جانتا ہے اور ہر ایک عضو انسانی بدن میں جو کام کرتا ہے، اس سے بھی واقف ہے۔ لیکن کیا اسے فقط اتنے علم کی بناء پر طبیب کہا جا سکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ کیونکہ جب تک وہ جسم انسانی کے اندر ایک ایسی چیز نہ مان لے جو اس کے تمام اعضاء کو ضبط میں رکھتی ہے۔ اور پھر ان سب اعضاء کے متعلق مجموعی طور پر یہ نہ جانتا ہو۔ کہ ان کی ترقی کی تدابیر کیا ہیں ۔ اس وقت تک اسے طبیب نہیں کہا جا سکتا۔
اس طرح اگر کوئی شخص کسی جماعت کسی قوم یا بہت سی قوموں کے مجموعے کے تمام تاریخی واقعات جمع کر کے ان کی فہرست از برکرلے تو اسے مورخ نہیں کہا جائے گا۔ وہ مؤرخ اس وقت کہلائے گا۔ جب وہ قوموں کے اندر ایک اجتماعی روح معین کرلے۔ اور خوب اچھی طرحسمجھ لے کہ وہ اجتماعی روح قوموں کو کس طرح ترقی دیتی ہے۔ اور اس روح کے راستے میں کوئی رکاوٹ پیش آئے۔ تو وہ اپنا راستہ کس طرح نکالتی ہے۔
تحریک اسلام کا ابتدائی دور
مدت
48 سال (نبوت سے شہادت عثمان رضی اللہ عنہ تک)
علاقائی توسیع
جزیرہ نما عرب، مصر، شام اور عراق
آج سے کوئی چودہ سو برس پہلے دنیا میں ایک جماعت نمودار ہوئی۔ وہ ترقی کرتے کرتے قوم بنی۔ پھر وہ ایک محدود علاقے میں بہت سی قوموں کا مجموعہ بنتی ہے، اس جماعت کی تاریخ کے پہلے دور میں ۴۸ سال ہیں، جن میں اس نے اپنے اعلیٰ اصولوں پر زندگی بسر کی ۔ ہماری مراد اس سے نبی اکرم ﷺ کی نبوت سے امیر المومنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت تک کا زمانہ ہے۔ یہ حجازی تحریک ہے۔ جس میں پہلے مکہ معظمہ کے قریش اور پھر مدینہ منورہ کے انصار جمع ہو جاتے ہیں ۔ اس تحریک نے ۱۳ سال تک مکہ معظمہ میں نشو و نما پائی ۔ اور ۳۵ سال مدینہ منورہ میں پھلتی پھولتی رہی۔ اس دوران میں اس نے جزیرہ نما عرب، مصر، شام اور عراق پر نہایت ہی کامیاب اور نہایت اعلیٰ اصولوں پر ایک طاقتور بین الاقوامی حکومت قائم کر دی۔ اس میں اتنی طاقت تھی کہ جدھر بڑھتی تھی ، اسے کوئی چیز روک نہ سکتی تھی۔
امام ولی اللہ دہلوی کی علمی خدمات
قرآن عظیم
- فتح الرحمن (فارسی ترجمہ)
- فوز الکبیر (مقدمہ ترجمہ)
- تأویل الاحادیث
احادیث صحیحہ
- حجۃ اللہ البالغہ (شراح احادیث)
- اصول حدیث و قرآن
تاریخ خلافت
- ازالۃ الخفاء
- البدور البازغہ
- الخیر الکثیر
- التفہیمات الالہیہ
امام ولی اللہ دہلوی نے قرآن عظیم کا فارسی ترجمہ فتح الرحمن لکھا۔ اور اس ترجمے کا مقدمہ فوز الکبیر لکھی۔ قرآن عظیم میں مختلف قوموں یا انسانیت کے مختلف دوروں کے متعلق قصے اور واقعات آئے ہیں۔ ان کا تسلسل دکھانے اور ان کی روح معین کرنے کے لیے تاویل الاحادیث لکھی۔
قرآن عظیم کی پیدا کردہ سوسائٹی کے متعلق جو صیح احادیث کا مجموعہ جمع ہو چکا ہے، اس کی شرح کرنے کے لئے حجتہ اللہ البالغہ لکھی ، جس کی تمہید میں وہ اصول مرتب کئے ، جو حدیث اور قرآن کی مشترک بنیاد کا کام دیتے ہیں ۔
بیت الحکمت ولی اللہی کا مقصد
ہمارا خیال ہے کہ امام ولی اللہ دہلوی کی تاریخ نویسی کا اتنا تعارف حاصل کرنے کے بعد بیت الحکمت ولی اللہی کا مقصد بآسانی سمجھ میں آسکتا ہے۔ آج کی دنیا کسی پرانی تحریک کو اس کی اجتماعی تاریخ سمجھے بغیر ماننے سے انکار کرتی ہے۔ ہم قرآن عظیم کی تحریک آج کی دنیا کو سمجھانے کے لیے اس کے پہلے اصولی دور کی تاریخ بیت الحکمت ولی اللہی میں اسے مصنف کے توسط سے پڑھاتے ہیں۔ جس کے مقابل مسلمانوں میں کوئی حکیم پیدا نہیں ہوا۔
بیت الحکمت میں یہ کتابیں اصلی زبان میں پڑھائی جاتی ہیں۔ مگر ہمارے ملک میں گزشتہ دو سو برسوں میں جو انقلاب رونما ہوا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عربی اور فارسی کی جگہ انگریزی اور اردو نے لے لی ہے۔ اس لیے یہ بیت الحکمت امام ولی اللہ دہلوی کے فلسفے اور تاریخ کا انگریزی اور اردو میں ترجمہ کرنا بھی اپنے مقاصد میں داخل کر چکا ہے۔
خاتمہ
یہ تحریک کس قدر اہمیت رکھتی ہے ، اس پر ہمیں زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے خیال میں جامعہ ملیہ دہلی بہترین مقام ہے، جہاں آج کے اچھے مؤرخ اور طالب علم جمع ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ہم بیت الحکمت کے مرکز کو جامعہ ملیہ دہلی سے وابستہ کرنا چاہتے ہیں ۔ ہم اس کی شاخیں سندھ اور پنجاب میں بھی قائم کرنا ہے ضروری سمجھتے ہیں۔
یہ کام اتنا مشکل اور اتنی زیادہ مدت کا طالب نہیں۔ جتنا یہ بظاہر نظر آتا ہے۔ اسے اعلیٰ فکر کے مستعد نوجوانوں کا مرکزی فکر ( آئیڈیا) بنا چاہیے۔ اگر اس میں کامیابی ہوگئی تو ہندوستانی مسلمانوں کا فکر تھوڑے ہی دنوں میں تمام آلائشوں سے پاک ہو جائے گا۔ واللہ المستعان
