استکباری تسلط کے مقابلے میں عزتِ نفس اور اجتماعی شعور
خطبہ جمعۃ المبارک - نظامِ توحید کی قرآنی فکر
خطبہ کی تفصیلات
مقرر:
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
تاریخ (ہجری):
10 شعبان المعظم 1447ھ
تاریخ (عیسوی):
30 جنوری 2026ء
مقام:
ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہنما آیات قرآنیہ
اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ۔لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ۔(النحل: 22-23)
ترجمہ: تمہارا معبود اکیلا معبود ہے پھر جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل نہیں مانتے اور وہ تکبر کرنے والے ہیں۔ ضرور اللہ جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں بے شک وہ غرور کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
"استکباری نظام کا مقابلہ صرف توحیدی فکر اور اجتماعی شعور سے ہی کیا جا سکتا ہے"
خطبے کے مرکزی نکات
1
انسانوں کی عزت اور فضیلت کی اساس؛ اللہ کی بالادستی
2
(استکبار کی بدخلقی) انسانی اقدار اور اعمال کے نتائج سے انکار کا رویہ
3
مستکبرین کی شیطانی جماعت اور معاشرتی فساد میں اس کا کردار
4
اللہ کی کبریائی اور عظمت کی سماجی حقیقت اور استکبار کا مرض
5
وسائل کی جغرافیائی تقسیم اور ان سے استفادہ کے لیے باہمی تعاون کی اساس پر عمرانی معاہدہ
6
دنیا میں افراتفری کے ذمہ دار مستکبرین اور ان کے مقابلے کے لیے واضح نصب العین کی ضرورت
7
مستکبرین کے خلاف انبیاء کی جدوجہد اور آج کے مسلمانوں میں موجود وہن کا مرض
8
استکباری نظام کی آلہ کار، پست ذہنیت کی حامل، مرعوب قیادتیں
9
عزت نفس کا بنیادی تقاضا عبدیت الہی اور حضرت عمر کا نظام انصاف کا مطالعہ
10
دینی اقدار اور حمیت کے لیے عزت نفس اور اجتماعی شعور کی ضرورت
مزید کارروائی
MIANA LIBRARY
دینی، علمی اور تحقیقی مضامین کا مرکز
ویب سائٹ: https://ibnyousaf.blogspot.com
© تمام حقوق محفوظ ہیں