اورنگ زیب عالمگیر پر اعتراضات کی حقیقت
ہمارے ہاں تاریخ کا آئینہ اتنا گرد آلود کر دیا گیا ہے کہ آج کے نوجوان کے لیے اپنے ماضی کا حقیقی چہرہ دیکھنا ناممکن ہو گیا ہے۔ ہندوستان میں مسلم دور حکومت کی بیشتر تاریخیں انگریزوں نے اپنی ضروریات کے تحت لکھوائی تھیں اور اس میں اپنے نقطہ نظر سے تاریخ کو پیش کیا تھا۔ ہماری نصابی کتب انہیں سوانح عمریوں ، سفرناموں ، درباروں کے واقعات سے ترتیب پائی ہیں جن : ما تاریخ کا انفرادی نقطۂ نظر مورخین اور سفر نامہ نگاروں کی پسند اور نا پسند کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔
مغلیہ عہد کے انگریز مورخین بالخصوص ایلیٹ ، ڈاوسن اور دی ۔ اے۔ سمتھ کے ہاں تاریخ کے بنیادی ماخذ راجہ رانی، وزیر، درباری ، امراء، ناچنے گانے والیاں اور راج دربار سے متعلق تبرکات ہیں۔ اسی لیے مولانا عبید اللہ سندھی فرماتے ہیں کہ انفرادی نقطہ نظر کی وجہ سے ہماری تاریخ بادشاہوں اور ممتاز افراد کے حالات کی کھتونیاں بن کر رہ گئی ہے ۔ ان مورخین نے مسلمان بادشاہوں کی زندگیوں کا اپنی مرضی سے ایک تصویری البم بنایا اور جہاں جس طرح چاہا اپنی مرضی کی تصویر ٹانک دی ہے۔ ان مسلم بادشاہوں میں ایک اورنگ زیب عالمگیر کی شخصیت ہے۔ ان کے بارے میں انگریز مؤرخین کے کردار کو مولانا ابوالکلام آزاد نے اس طرح بیان کیا ہے کہ:
"مغربی سیاحوں اور مورخوں کے ملمع کار اور پر از تعصب قلم نے جن عجیب چالاکیوں سے اورنگ زیب کی فرضی تصویر کھینچی ہے وہ دنیا کے اس متمدن ترین خطے کے قلمی فریبوں کی فہرست میں ہمیشہ نمایاں رہے گی ۔"
انگریز مورخین کا تعصب
اورنگ زیب کے بارے میں سب سے زیادہ غیر محتاط، متعصبانہ اور زہر آلود مواد انگریزوں کے دور غلامی کے دو مورخین ایلیٹ اور ڈاوسن نے پھیلایا۔ انہوں نے انگریزی میں صرف ایسے مواد کا ترجمہ کیا جس میں اورنگ زیب پر الزامات لگائے گئے تھے اور ان کے دور حکومت کو منفی نقطہ نظر سے پیش کیا گیا تھا۔ ان دونوں نے ہر ایسے واقعہ کو اپنی کتابوں میں جگہ دی جس سے مسلمانوں اور ہندوؤں میں معاشرتی بعد اور فرقہ وارانہ نفرت پیدا ہوئی ۔ کیونکہ انگریزوں کی پالیسی لڑاؤ اور حکومت کرو تھی۔
اورنگ زیب پر الزامات
متعصب مورخین کی طرف سے اورنگ زیب پر الزامات کی جو فرو جرم کی فہرست جاری کی جاتی ہے وہ یہ ہے:
- اس نے اقتدار و سلطنت کے لیے اپنے باپ شاہجہاں کو قید کیا۔
- اقتدار تک پہنچنے کا راستہ صاف کرنے کے لیے بھائیوں کو موت کے گھاٹ اُتارا۔
- اس نے مذہبی تعصب کے باعث ہندؤوں پر کبھی اعتماد نہیں کیا اور تمام اہم عہدوں پر مسلمانوں کا تقرر کیا۔
- مذہبی نظریے کی بدولت اس نے ہندؤوں کو جبراً مسلمان بنایا۔
- ہندؤوں کے مقدس مقامات مندروں کو لوٹا اور گرا کر ان پر مسجد میں تعمیر کروادیں۔
- ہندوؤں پر مذہبی ٹیکس جز یہ لگایا۔
- دکن کی اسلامی ریاستوں کو برباد کیا۔
- تیموری سلطنت کے زوال کا باعث بنا۔
تاریخی حقائق کی روشنی میں
دشمنوں کی جاری کردہ چارج شیٹ تو بہت طویل ہے تاہم یہ وہ اعتراضات ہیں جو بنیادی نوعیت کے حامل ہیں۔ تاریخ سے اگر ان سوالات کے درست جوابات تلاش کر لیے جائیں تو مطلع صاف ہو جاتا ہے اور اورنگ زیب عالمگیر ہر طرح کی فرقہ واریت سے بالاتر اور اپنے عہد کا کامیاب قومی حکمران نظر آتا ہے۔
باپ کی قید کا الزام
یہ بات تاریخی واقعات و حقائق سے ثابت ہو جاتی ہے کہ شاہ جہاں دارا شکوہ کو اپنا جانشین بنانا چاہتا تھا اس لیے وہ اورنگ زیب کو باہر کے کسی مسئلے کی وجہ سے دربار سے دور ہی رکھتا تھا۔ اورنگ زیب کے ان اقدامات کو باپ کے خلاف پیش کرنا صریحاً زیادتی ہے کیونکہ یہ اقدامات دراصل دارا کے اقدامات کا جواب تھے۔ شاہ جہاں کو قلعہ میں رکھنا اس کے علاج اور آرام کے لیے تھا نہ کہ قید کرنا۔
تاریخ کے اوراق کو غیر جانبدارانہ طور پر پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اورنگ زیب عالمگیر نے ہندوستان میں عدل و انصاف کا مثالی نظام قائم کیا۔ ان کی شخصیت انتہائی دیانتدار، پرہیزگار اور اصول پسند تھی۔ انہوں نے سلطنت کو وسعت دی اور ہر شہری کے حقوق کا یکساں تحفظ کیا۔
📄 مضمون ڈاؤنلوڈ کریں (PDF)
مزید مضامین اور کتابیں:
کالمز اور مضامین
تاریخی مضامین اور کتابیں
MIANA LIBRARY - https://ibnyousaf.blogspot.com
