بچوں کو مطالعہ کرنے والا کیسے بنایا جائے؟
بچوں میں مطالعے کا رحجان: مسئلہ اور ابتدائی عمر کی اہمیت
ہمارے زمانے میں اکثر بڑے اس بات کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کے بچے کہنے کے باوجود مطالعہ نہیں کرتے لیکن عام طور پر یہ شکایت ۱۵-۲۰ سال کے بچوں کے بارے میں کی جاتی ہے اور شکایت کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ انسان کو جو کچھ بنا ہوتا ہے وہ آٹھ دس سال کی عمر تک بن جاتا ہے، اس کے بعد جو کچھ سامنے آتا ہے وہ بچپن کی تفصیل ہوتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر ہم اپنی نئی نسل کو مطالعے کا شوقین بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے بچوں کو چار پانچ سال کی عمر سے پڑھنے والا بنانا ہوگا، لیکن سوال یہ ہے کہ چار پانچ سال کی عمر کے بچوں کو پڑھنے والا کیسے بنایا جا سکتا ہے؟
سماعت کا مرحلہ: پڑھنے سے پہلے سننے والا بنانا
اس مسئلے کا تمام روایتی تہذیبوں بالخصوص اسلامی تہذیب نے ایک زبردست حل تلاش کیا ہوا تھا اور وہ یہ کہ پڑھنے والوں کو پہلے سننے والا بناؤ یعنی پڑھنے والا کو پہلے سننے والے کے مرتبے پر فائز کرو۔ برصغیر کے مسلمانوں کی ہند اسلامی تہذیب نے اس کی ابتدائی صورت یہ پیدا کی تھی کہ بچوں کو شیر خوارگی کی عمر سے طرح طرح کی لوریاں سنائی جائیں ۔ مثلا ایک لوری تھی ۔ حسبی ربی جل الله مافی قلبی غیر الله نور محمد صلى الله لا اله الا اللہ غور کیا جائے تو چار مصرعوں کی اس لوری میں پوری توحید اور رسالت موجود ہے، اس میں جامعیت بھی ہے اور اختصار بھی۔
حسبی ربی جل الله مافی قلبی غیر الله
نور محمد صلى الله لا اله الا اللہ
لوریوں کا تربیتی کردار
اس لوری میں صوتی حسن بھی بدرجہ اتم موجود ہے جو بچے اس لوری کو سنتے تھے وہ اسلام کی بنیاد سے بھی آگاہ ہوتے تھے، ان کے مزاج میں ایک شاعرانہ آہنگ بھی پیدا ہو جاتا تھا اور زبان کا ایک سانچہ بھی انہیں فراہم ہو جاتا تھا ، ایک بچہ تین، چار سال کی عمر تک یہ پوری ہزاروں بار سنتا تھا اور یہ پوری اس کے شعور میں رائج ہو کر اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتی تھی لیکن لوریوں کی دنیا صرف اس اوری تک محدود نہ تھی، ایک لوری جو ہم نے ہزاروں بارسنی یہ تھی ۔ اری نند یا آجا فلاں کو سلا جاء فلاں کی آنکھوں میں گھل مل کے فلاں کا سوہنا نام بتا جا، آتی ہوں بھی آتی ہوں فلاں کو سلاتی ہوں، فلاں کی آنکھوں میں گھل مل کے فلاں کا سونا نام بتاتی ہوں، آگئی لو آگئی فلاں کو سلا گئی، فلاں کی آنکھوں میں گھل مل کے فلاں کا سوہنا نام بتا گئی، لاؤ جی لاؤ میری مزدوری دو، لو جی لوتم ، لڈولولڈو میں سے نکلی لکھی فلاں کی جان اللہ نے رکھی ۔
کہانیوں کی دنیا: سننے اور پڑھنے میں فرق
اور اس لوری میں لوری سننے والے کا نام بدلتا رہتا تھا مگر لوری ہی رہتی تھی۔ کہنے کو یہ لوری مذہبی نہیں ہے مگر اس لوری میں مذہب سطح پر موجود ہونے کے بجائے اس کی ساخت اور اس کی معنوی بنت میں موجود ہے، یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ یہ لوریاں بچوں میں مذہبی شعور، شاعرانہ مزاج ر زبان و بیان کی عمدہ اہمیت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی تھیں۔ بچے چار پانچ سال کی عمر کے ہوتے تھے تو ان پر کہانیوں کی دنیا کا در کھل جاتا تھا، کہانیاں سنانے والے گھر کے لوگ ہوتے تھے، بظاہر دیکھا جائے تو کہانی پڑھنے اور سننے میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا لیکن ایسا نہیں ہے، کہانی پڑھنے اور سننے کے اثرات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ کہانی سننے کے عمل میں کہانی سنانے والے کی شخصیت سے منسلک ہو جاتی ہے اور اس میں ایک انسانی عنصر در آتا ہے جو کہانی کو حقیقی بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
کہانی سننے کے فوائد
کہانی کی سماعت کا ایک فائدہ یہ ہے کہ کہانی سنتے ہوئے سامع کا تخیل پوری طرحآزاد ہوتا ہے اور وہ کہانی کے ساتھ سفر کرتا ہے، کہانی سنانے والی کی آواز کا اتار چڑھاؤ کہانی میں ڈرامائیت پیدا کر دیتا ہے جس سے کہانی کی تاثیر بڑھ جاتی ہے۔ عام طور پر کہانی سنانے والا کہانی سناتے ہوئے ہاتھوں کی مخصوص حرکت اور چہرے کے تاثرات کو بھی کہانی کا حصہ بنا دیتا ہے جس سے ایک جانب کہانی کی فضا اور ماحول پیدا ہوتا ہے اور دوسری جانب کہانی کو بر جنگی کا لمس فراہم ہوتا ہے۔ کہانی پڑھنے کے اپنے فوائد ہیں مگر کہانی کی سماعت کا اپنا لطف اور اپنا اثر ہے اور بچپن میں کہانی کی سماعت کہانی کو پڑھنے سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔
رات اور کہانی کا رازآمیز تعلق
بچپن میں یہ بات کبھی ہماری سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ کہانی سنانے والے رات ہی کو کیوں کہانی سناتے ہیں۔ دن میں کہانی کیوں نہیں سناتے بلکہ ہم ان سے دن میں کہانی سنانے کی ضد کرتے تھے تو وہ مسکراتے تھے اور کہتے تھے دن میں کہانی نہیں سنتے ورنہ ماموں راستہ بھول جاتے ہیں اور ہم ماموں کو راستے پر گم ہونے سے بچانے کے لیے کہانی سننے کی ضد ترک کر دیتے تھے لیکن اب اس عمر میں تھوڑا بہت پڑھنے اور غور کرنے سے معلوم ہوا کہ کہانی اور رات کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور دن میں کہانی کا اثر گھٹ کر آدھے سے بھی کم رہ جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رات اسرار کا سمندر ہے اور رات کا لمس عام کہانی کو بھی پر اسرار بنا دیتا ہے۔
رات کا اسراری ماحول کہانی کو زیادہ مؤثر بناتا ہے۔ رات کی کہانی میں وہی کردار ادا ہوتا ہے جو ڈرامے میں سیٹ اور روشنیاں پیدا کرتی ہیں۔
سماعت سے مطالعے تک: ایک فطری سفر
تجزیہ کیا جائے تو رات کی کہانی میں جہاں عمودی جہت پیدا کرتی ہے وہیں دوسری جانب وہ کہانی میں وہی کردار ادا کرتی ہے جو قلم یا ٹیلی ڈرامے میں سیٹ اور روشنیاں پیدا کرتی ہیں۔ یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ کہانی کی سماعت بچوں کو مطالعے پر مائل نہیں مجبور کر دیتی ہے۔ اس لیے کہ سماعت شاعری اور کہانی کو سامع کی شخصیت کا جز بنا دیتی ہے۔ چنانچہ جو لوگ اپنے بچوں کو پڑھنے والا بنانا چاہتے ہیں ان کے لیے لازم ہے کہ وہ بچوں کو ابتدا ہی سے ادب کی مختلف ہستیوں کا سامع بنائیں ، سماعت مطالعے کو صرف شوق نہیں بناتی ذوق بھی بناتی ہے۔
ماضی کی تعلیمی روایات
آج سے تمہیں چالیس سال پہلے عام اسکولوں کے طلبہ بھی دس بارہ سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے ایک ڈیڑھ درجن نظموں کے حافظ ہو جاتے تھے۔ ان میں سے اکثر کا یہی حافظہ انہیں مشاعروں تک لے جاتا تھا اور مشاعرے انہیں شعری مجموعوں کے مطالعے پر مجبور کر دیتے تھے لیکن ہماری معاشرتی زندگی سے ادب کی سماعت کا پورا منظر نامہ غائب ہو چکا ہے۔ اب نہ کہیں لوریاں ہیں، نہ کہانیاں، پہیلیاں ہیں نہ نظموں کا حافظ ہے۔
والدین اور اساتذہ کا کردار
اب ہم چاہتے ہیں کہ جس بچے نے دس، پندرہ سال تک شاعری یا کہانی کے ذیل میں کچھ بھی نہیں سنا وہ اچانک ادب پڑھنے والا بن جائے۔ یہ دیوار میں در بنانے کی خواہش ہے، اس کے برعکس بچپن سے فراہم ہونے والی شعر وادب کی سماعت شخصیت کو ایک ایسی عمارت بنا دیتی ہے جس میں دروازے اور کھڑکیاں فطری طور پر عمارت کے نقشے کے حصے کے طور پر موجود ہوتے ہیں۔ بچوں کے بارے میں ایک بنیادی بات یہ ہے کہ وہ اپنے ماحول میں موجود بڑوں کی نقل کرتے ہیں، چنانچہ یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی معاشرے میں بڑے کتاب نہ پڑھ رہے ہوں اور بچوں سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ کتاب پڑھیں۔
کتاب کی حقیقی قدر
اس سلسلے میں والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری بنیادی ہے۔ والدین اور اساتذہ بچوں کو کتاب پڑھتے ہوئے اور کتاب کی اہمیت پر اصرار کرتے ہوئے نظر آئیں گے تو بچوں میں مطالعے کا رحجان شوق بنے گا اور شوق ذوق میں تبدیل ہوگا ۔ کتاب کے سلسلے میں بچوں ہی کو نہیں بڑوں کو بھی یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ کتاب بیک وقت دنیا کی سب سے مہنگی اور سب سے سستی چیز ہے۔ کتاب دنیا کی مہنگی ترین چیز اس لیے ہے کہ ایک کھرب ڈالر صرف کر کے بھی ایک شیکسپیئر ، ایک میر تقی میر اور ایک مولانا غالب پیدا نہیں کیا جا سکتا، کتاب دنیا کی سستی ترین چیز اس لیے ہے کہ جو کلیات میر ایک جاسکتا، دنیا کھرب ڈالر خرچ کر کے بھی تخلیق نہیں کی جاسکتی وہ ہمیں بازار سے پانچ سو روپے میں مل جاتی ہے۔
