مدرسہ کا نظام : پس منظر ، مسلکی اثرات اور مطلوبہ مقاصد از مفتی ڈاکٹر سعید الرحمن اعوان

مدرسہ کا نظام : پس منظر ، مسلکی اثرات اور مطلوبہ مقاصد

مدرسہ کا نظام  : پس منظر ، مسلکی اثرات اور مطلوبہ مقاصد 

مدرسہ کا نظام  : پس منظر ، مسلکی اثرات اور مطلوبہ مقاصد از مفتی ڈاکٹر سعید الرحمن اعوان
مدرسہ کا نظام  : پس منظر ، مسلکی اثرات اور مطلوبہ مقاصد از مفتی ڈاکٹر سعید الرحمن اعوان
مفتی ڈاکٹر سعید الرحمن اعوان

مدرسہ کا نظام  : پس منظر ، مسلکی اثرات اور مطلوبہ مقاصد 

تعلیم اور انسانیت کا باہمی تعلق

انسانیت اور تعلیم کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ علوم سے آگہی ہی وجہ تخلیق انسان قرار پائی۔ اسی بنیاد پر وہ سماجی امور کی دیکھ بھال اور معاشرتی نظم وضبط کی ذمہ داری ( خلافت ) کا اہل قرار پایا۔ انسانی معاشرے کی بقا اور ترقی کا تعلق فروغ علم سے ہی رہا ہے۔ گویا انسانیت اور انسانی اجتماع کا اتصور علم و آگہی سے جڑا ہوا ہے۔ اس بنا پر دستور انسانیت اسلام کا تصور بھی تعلیم سے ہی (1) منسلک ہے، بلکہ آغاز وحی کا بنیادی مضمون ؛ قرارت و خواندگی، تعلیم بالقلم اور نامعلوم کو جاننے کی جستجو جیسے موضوعات پر مشتمل ہے۔

علم ایک اکائی ہے جو انسان کو بلا تفریق ان تمام امور سے واقفیت بہم پہنچاتا ہے ، جو پہلے اس کے دائرہ علم میں نہیں ہوتے۔ اس لیے علم ہی انسانی فضیلت کا اساسی معیار اور اس کی ترقی کا بنیادی زینہ قرار پایا ہے اور یہ کسی ایسے محدود یا منجمد تصور کا نام نہیں ہے کہ اس کے حصول پر انسان منزل آشنا قرار پائے، بلکہ نامعلوم کی جنجوئی مسلسل علم کا بنیادی تقاضا ہے۔ اس  لیے رب زدنی علما  پروردگار میرے لیے علم میں اضافہ کر انسان کا وظیفہ عمل قرار پایا۔ (2)

دائرة علم انسانیت سے متعلق تمام موضوعات

علم کا تعلق چوں کہ انسان اور انسانیت سے ہے ، اس لیے اس کے دائرے میں وہ تمام موضوعات شامل ہیں، جو انسان کی مادی ، روحانی، اخلاقی ، اقتصادی، سیاسی طبعی و غیر ہ ضروریات سے اللہ نے انسان کو اس کی تعلیم دی، جس (5:96) متعلق سمجھے جاتے ہیں اور ان میں سے کسی بھی شعبے سے آگہی کو علم کے دائرے سے خارج تصور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ علم الانسان تالم یتکلم کو وہ نہیں جانتا تھا) کے بنیادی مضمون کے دائرے میں آتا ہے۔

علم کا تعلق انسان کی ذہنی نشو و نما سے ہے۔ اس ذہنی نشو و نما سے ایک طرف اس کے خیالات کو مہمیز ملتی ہے تو دوسری طرف وہ علم بسا اوقات ان خیالات کو خارجی وجو د بھی بخشتا ہے۔ اس کو اظہار علم کا تنوع قرار دیا جاتا ہے اور علم کے دائرہ کار کی وسعت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چناں چہ علم کے دائرہ کار کی تفہیم کے لیے علوم وفنون کی اصطلاحات وضع ہو ئیں۔ علوم کے دائرے میں سماجیات اور اس سے متعلقہ شعبہ جات میں زیر بحث آنے والے افکار و تصورات شمار کیے جانے لگے ، جب کہ فنون ، ان مہارتوں کا عنوان قرار پایا جو معاشرے کی ماڑی نشو و نما طبعی ارتقا اور عملی سہولیات کو یقینی بناتی ہیں۔ یہ مہارتیں بھی انسانی ذہنی کاوشوں اور علمی تخیلات کا ہی نتیجہ ہوتی ہیں۔ اس لیے ان کو فنون کے نام سے علم سے خارج تصور نہیں کیا جا سکتا۔ گویا سماج کی ذہنی تشکیل اور مادی ارتقا کے علوم نہ تو ایک دوسرے سے اجنبی ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے کے مزاحم و متصادم ہیں، بلکہ آپس میں مربوط ہیں۔

عہد نبوی میں علم کی موضوعاتی وسعت

عہد نبوی میں علم کا تصور اسی وسعت کے ساتھ متعارف ہوا۔ چناں چہ یہی سبب ہے کہ جب غزوہ بدر کے نتیجے میں قریش مکہ کی ایک بڑی تعداد گر فتار ہوئی تو ان کی رہائی سے اسلامی ایک تو مدینہ منورہ کے باشندوں کی معاشی حالت کی بہتری کے لیے صاحب حیثیت افراد سے مدینہ پر جارحیت کے (3) معاشرے کو تقویت پہنچانے کے لیے دو شعبوں کا انتخاب کیا گیا۔

جرم میں تاوان ( فدیہ ) کے طور پر فی کسی چار ہزار درہم وصول کیے گئے اور دوسرا جو لوگ لکھنے پڑھنے کی مہارت رکھتے تھے ، ان سے مدینہ منورہ کے شہریوں کی تعلیمی حالت بہتر بنانے کا کام لیا گیا کہ ہر شخص دس بچوں کو تعلیم دے گا۔ اور ترین حال ہے کہ ان اسیر ان بدر سے جو تعلیمی خدمات حاصل کی گئیں، ان کا تعلق معاشرتی امور سے تھا۔ اس سے انداز و کیا سکتا ہے کہ عہد نبوی میں جس طرح علوم نبوت کے تعلیم و تعلم کا اہتمام تھا، اسی طرح سماجیات سے متعلقہ علوم کے حصول کو بھی پیش نظر رکھا گیا۔ چناں چہ سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن تا کہ ان زبانوں کے ذریعے باہم معلومات کا (4) نے پندرہ ثابت رضی اللہ عنہ کو سریانی، عبرانی و غیر زبانیں سکھنے کا حکم دیا اور انھوں نے پندرہ پندرہ دنوں میں کا دونوں زبانیں سیکھ لیں۔ افاده و استفادہ کیا جاسکے ، جن کا دائر و معاشرتی امور کے حوالے سے ہی متعین ہوتا ہے۔

مسلمانوں کے تیرہ سالہ دور میں علم کی وسعت

عہد نبوی سے ہی مسلمانوں کو ملکی اور کی انجام دہی سے واسطہ پڑا، اور یہ دائرہ انجام دہی سے واسطہ پڑا، اور یہ دائرہ مسلسل وسعت پذیر رہا۔ ریاست مدینہ کے آغاز سے خلافت عثمانیہ کے اختتام تک تقریبا تیرہ سو سالہ عرصے میں مسلمانوں کا انسانی زندگی کے سماجی معاملات سے ہر اور است واسطہ رہا۔ اس دوران ان امور کی انجام دہی کے لیے انھوں نے متعلقہ معلومات حاصل کیں، خواہ ان کا تعلق زندگی کے کسی بھی شعبے سے رہا ہو۔ چناں چہ مسلم دور میں علم کو ایک اکائی کی حیثیت حاصل رہی اور کسی شعبے کے اختصاصی علم کو محض علم قرار دینے کی کوئی روایت نظر نہیں آتی، بلکہ ہر ایسے علم کے حصول کو فرض کفایہ قرار دیا گیا، جس سے معاشرے کی کوئی بھی ضرورت متعلق ہوتی کہ امام غزائی جیسی باوقار علمی شخصیت نے اپنے دور کے اس رویے پر شوہ کیا ہے کہ سلمان علم فقہ و حاصل کرتے ہیں، حال آں کہ فقہا بہ کثرت موجود ہیں، مگر علم طلب حاصل نہیں کرتے۔ اور واضح کیا کہ یہ علوم لائق توجہ ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ انھوں نے ان علوم کے حصول کو شرعی زبان میں فرض کفایہ قرار دیا ہے کہ معاشرے میں ایسے افراد کا ہونا ضروری ہے، جو ان علوم کو اختصاصی طور پر حاصل کریں، تاکہ مسلمانوں کو دوسروں کی محتاجگی سے محفوظ رکھا جا سکے (5)

مسلم دور حکومت میں مسلمانوں میں علوم کے حوالے سے کوئی تحفظات نہیں رہے۔ چناں چہ یونانی علوم کو بڑے اہتمام کے ساتھ عربی زبان میں منتقل کر کے ان میں موجود نظریات کو موضوع بحث بنایا گیا۔ ان علوم کے حوالے سے تائید و تنقید پر مشتمل تحریری مواد اس بات کی واضح شہادت ہے کہ مسلمانوں کی علم سے بلا امتیاز مضمون، دلچسپی موجود رہی اور انھوں نے موجود علوم میں خاطر خواہ اضافہ کیا اور ان کو اپنا میدان تحقیق بنایا، بلکہ ایک دور میں یونانی علوم کی اتنی پذیرائی تھی کہ علوم فلسفہ ( ہندسہ ، حساب ، منطق ، الحیات طبعیات) کی حیثیت دینی مسلمانوں کے یونانی علوم سے (6) علوم کے لیے محافظ جیسی تصور ہوتی تھی۔ حتی کہ ابن قدامہ مقدسی نے ان کو علوم کے پرکھنے کا معیار قرار دے کر اجتہاد کی شرائط میں بھی شمار کیا ہے۔ شغف کے سب ہی آج کا یورپ ان علوم سے آگاہ ہو سکا۔ اور یہ بات بھی اپنے اندر وزن رکھتی ہے کہ سولہویں صدی کے یورپ کی نشاۃ ثانیہ ، چین کے عرب مسلمانوں کی رہین منت ہے، جنھوں نے یورپ کوئی سائنس اور سماجی علوم و فنون سے روشناس کرایا۔

علم کا حصول معاشرے کی ضرورت سے مربوط

ہر دور کی طرح مسلم دور حکومت میں بھی علوم کا حصول طالب علم کی ذاتی جستجو اور دلچسپی کے ساتھ کے ساتھ معاشرے کی ضروریات اور تقاضوں سے مربوط رہا ہے۔ اس لیے سماج کے مطالبات کو مکمل نظر انداز کر کے علمی روایت کے فروغ کا تصور ایک نامانوس تصور ہے۔ اس تناظر میں بر صغیر کے مسلم عہد کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ اس دور کا نظام تعلیم اپنے عہد کی معاشرتی اور سیاسی ضروریات سے منسلک تھا۔ مثلاً نظام سلطنت کے لیے ایسے ماہرین کی ضرورت تھی، جو عدالتی اور دفتری امور کی مہارت کے ساتھ ساتھ اپنے اندر خدا تری کے جذبے کے تحت خدمت انسانیت کے لیے ذہنی و قلبی طور پر مستعد ہوں۔ چناں چہ اس مقصد کے لیے علم فقہ اور اس کے متعلقات کو نصاب تعلیم میں نمایاں حیثیت حاصل تھی۔ ان علوم میں گہری مہارت کے لیے منطق اور عربی ادب سے واقفیت کو بھی اس پس منظر میں اہمیت دی جاتی تھی۔ اس کے ساتھ معاشرے کی جسمانی صحت سے متعلق علوم اور معاشرے میں گوناگوں امور کی انجام دہی کے لیے تعمیرات کا متنوع سلسلہ بھی معاشرے کی ترقی کے لیے ناگزیر تصور امور خیال کیا جاتا رہا ہے۔ چناں چہ اس مقصد کے لیے علم طب، انجینئرنگ، اقلیدس، الجبرا، جیومیٹری اور ریاضی جیسے علوم کو بھی فروغ حاصل ہوا۔ اس دور کی معروف عمارتوں ( تاج محل، قلعہ جات، مساجد ، مقابر و مزارات ، رصد گاہوں، شاہراہوں، اسلحہ خانوں اور مینار وغیرہ) کا مشاہدہ بھی اپنے دور کے متعلقہ علوم کی نوعیت کو واضح کرتا ہے۔

بر صغیر کے مسلم عہد میں درس نظامی کی تعلیم کی حقیقت

بر صغیر میں درس نظامی کے عنوان سے آج کے مذہبی حلقوں میں جس نصاب تعلیم کو تجریدی بنیادوں پر بہت مقدس تصور کیا جاتا ہے ، وہ بھی در حقیقت اپنے دور کے تقاضوں کی آواز تھا۔ مغلیہ سلطنت کے آخری دور میں عدالتوں کو قاضی اور مفتی حضرات کی جو ضرورت در پیش تھی، اس کے پیش نظر علامہ نظام الدین سہالوی (1748ء) نے ایک تعلیمی و تربیتی نصاب تشکیل دیا، جو علامہ موصوف کے نام سے درس نظامی کہلایا۔ حکومت وقت نے اس نصاب کی ترویج کے لیے فرنگی محل کی عمارت وقف کر دی تھی۔ بعد ازیں امام شاہ ولی اللہ دہلوی (1762ء) نے مدرسہ رحیمیہ دہلی کے ذریعے اپنا نصاب تعلیم متعارف کرایا، جس میں درس نظامی کے بعض اجزا کے علاوہ حدیث وفقہ اور تصوف کے مضامین کے ساتھ فن تطبیق اور حکمت عملی کو اہتمام کو ظاہر کرتا ہے۔ (vision) کے ساتھ متعارف کرایا، جو عصر حاضر کے حوالے سے ان کی بصیرت جب اٹھارہویں صدی عیسوی میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے دہلی کے حکمران شاہ عالم سے دیوانی خریدی تو کمپنی کے زیر انتظام علاقوں کے بارے میں یہ امر معاہدے کا حصہ تھا کہ وہاں کا عدالتی نظام بدستور فقہ حنفی کے مطابق چلتا رہے گا۔ چناں چہ کمپنی کے کار پردازوں نے بھی اپنے اہتمام میں درس نظامی کے کئی ادارے قائم کیے تھے اور یہ سلسلہ 1857ء کی جنگ آزادی کے مسلم دور کے نظام تعلیم میں اس دور کے مروجہ علوم کو بھی اعلیٰ درجے کی پذیرائی حاصل تھی۔ اس دور کے تعلیمی نظام کو جہاں اس وقت کی حکومت میں شامل علم (7) آغاز تک جاری رہا۔ دوست افراد کا تعاون حاصل تھا، وہیں تعلیمی اداروں کے لیے وقف اراضی کی صورت میں انھیں ایک مستقل ذریعہ آمدن حاصل تھا، جس سے یہ ادارے با اثر حلقے کی پسند و نا پسند سے بالاتر رہ کر اپنا کردار ادا کرنے میں آزاد تصور ہوتے تھے۔

انگریز کے غلبے کے بعد نو آبادیاتی نظام تعلیم

بر صغیر میں انگریز نے غلبہ پاتے ہی اپنے نو آبادیاتی نظام کے تقاضوں کے تحت ایک ایسے نظام تعلیم کی ضرورت محسوس کی، جس کا فارغ التحصیل طبقہ اس کے نظام اور یہاں کے عوام کے مابین رابطہ کاری کے فرائض انجام دے سکے اور مقامی آبادی کے دل میں حکمرانوں کے لیے فدویانہ جذبات کی پرورش کر سکے۔ چناں چہ وہ اپنے ملک کے بر عکس بر صغیر کو جدید سائنسی علوم سے بر اور است مستفید نہ کر سکا۔ نہ صرف یہ بلکہ یہاں کی زرعی معیشت میں جاگیر داری کا وہ فرسودہ نظام متعارف کرایا جس کو وہ اپنے ملک میں رڈ کر کے صنعتی دور میں داخل ہو ا تھا۔ یہاں کے پنچایتی نظام کی جگہ پیچید و عدالتی نظام باند کر کے مقدمات کے گورکھ دھندے میں یہاں کی رعایا کو جکڑ کر رکھ دیا اور اپنے ملک میں ریاستی سطح پر مذہبی غیر جانب داری کو اختیار کرنے کے باوجود بر صغیر میں مذہبی فرقہ واریت کے فروغ کو اپنے اقتدار کے استحکام کے لیے ناگزیر تصور کیا۔ ان حالات میں سرسید احمد خال (1898ء) نے (Secularism) انگریز کی آمد کے بعد کے حالات کا جائزہ لیا اور فلسفیانہ استدلال کے زور پر ایک نیا علم الکلام متعارف کرانے کی کوشش کی مگر ان کاوشوں کا ان کے علی گڑھ کے مدرستہ العلوم ( قیام کے فن کا اسیر ہو کر رہ گیا۔ کیوں کہ اس وقت تک مسلمانوں کا (Communication 1875 ) سے کوئی تعلق نہ بن سکا۔ (8) یہاں کا نصاب حکمراں و رعایا کے مابین محض رابطہ کاری عدالتی اور دفتری نظام بھی لیٹا جا چکا تھا۔

انگریزی نو آبادیاتی دور میں سابق حکمراں ہونے کے ناطے مسلمانوں کو سرکاری سطح پر ایک حریف کے طور پر دیکھا گیا اور ان کے نظام سلطنت کے باقیات کو چن چن کر ہدف بنایا گیا تو ان حالات میں سرسید احمد خاں نے حالات کے مطابق ہوا کے رخ پر چلنے کی دعوت دی تھی لیکن وہاں وہ کوئی ٹھوس قابل قبول متبادل لائحہ عمل دینے میں مطلوبہ کامیابی حاصل نہ کر سکے ۔ اسی طرح دیگر زعمائے ملت بھی حالات کی کایا پلٹ پر دل گیر تھے اور خاص طور پر اپنے مذہب کی تعلیمات کے تحفظ اور ان کے فروغ کے حوالے سے موجود و موہوم اندیشوں میں گرفتار تھے۔

ان نا مساعد حالات میں مذہبی طبقے کا عمومی رجحان اپنے کمزور وسائل کے ذریعے دینی علوم کے تحفظ کے لیے مدارس کے قیام کی طرف ہوا اور انھوں نے دریس نظامی کو کچھ ترامیم کے ساتھ اپنا نصاب تعلیم قرار دے کر افراد سازی کی محنت شرع کر دی۔ ان افراد کا مع نظر اپنے اپنے علاقوں میں روز مرہ کی مد ہی ضروریات ( نماز با جماعت ، نماز جنازہ، خطبہ نکاح، اذان و حملات، بچوں کو قرآن کے الفاظ کی تعلیم وغیرہ) کی تکمیل قرار پایا، جب کہ معاشرے  کے سر گرم شعبوں میں کردار ادا کرنے کے لیے گنجائش نہ ہونے کے سبب وہ ان شعبوں کے علمی تقاضوں سے اپنے آپ کو باخبر رکھنا بھی ضروری تصور نہیں کرتے تھے۔ چناں چہ درس نظامی کا نصاب عمل کے میزان میں محدود مذ ہبی سرگرمیوں کا نصاب بن کر رہ گیا۔

قومی نقطہ نظر سے دینی تعلیمی اداروں کا سماجی علوم سے تعلق

تاہم مذہبی طبقے میں ایسا حلقہ اور شخصیات بھی موجود تھیں، جن میں مذہب کی ان محدود مگر نہایت بنیادی اور ضروری سرگرمیوں کے ساتھ در پیش بدیسی نظام سے گلو خلاصی کے ساتھ ساتھ معروضی تقاضوں کے حوالے سے بھی گرا نظر پایا جاتا تھا، گو ان کی تعداد گنی چنی تھی۔ ان کے وژن میں درس نظامی کا مفض اعادہ نہیں تھا، بلکہ وہ اس کو نئے حالات کے لیے مطلوبہ رہنمائی کا ایک ناگزیر ذریعہ تصور کرتے تھے۔ اس حوالے سے دو کاوشوں کا ذکر مناسب ہو گا۔ 

ایک یہ کہ 1866ء میں جب دیوبند ( ضلع سہارن پور) میں ایک مدرسہ قائم کیا گیا تو اس کے بانی مولانا محمد قاسم نانوتوی (1880ء) نے اس کو 1857ء کی جنگ آزادی کی علمی بازگشت قرار دیا۔ چناں چہ ان کے منصوبہ تعلیم کا یہ حصہ تھا کہ دیوبند کی تعلیم کی تکمیل کے بعد طلبا عصری علوم سے بھی اپنی واقفیت بہم پہنچائیں، تا کہ در پیش مسائل کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر متعین اسی سلسلے کی اگلی منزل دہلی میں نظارۃ المعارف القرآنیہ کے نام کا ادارہ قرار پایا، جس (9) کر سکیں۔ علاوہ از میں اختصاصی سطح پر امام شاہ ولی اللہ دہلوی کی کتب کو بھی شامل نصاب کیا گیا۔ اس کے بعد 1920ء میں تحریک ریشمی رومال کے سربراہ مولانا محمود حسن تھے ، (10) میں روایتی محدود روش سے ہٹ کر قرآن حکیم پر ساجی نقطہ نظر سے غور و فکر کی داغ بیل ڈالی گئی۔ جو آزادی ہند کی جد وجہد میں شرکت کی پاداش میں مالنا میں اسیر رہنے کے بعد جب واپس ہندوستان آئے تو اس وقت کی آل انڈیا خلافت کمیٹی نے مہاتما گاندھی کی موجودگی میں ان کو با قاعدہ شیخ الہند کا خطاب دیا تھا۔ انھوں نے علی گڑھ میں ایک قومی تعلیمی ادارہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا سنگ بنیاد رکھا اور مدارس کے حلقے کے مقابلے میں کالجز کے نوجوانوں کو اُمت کے مستقبل (11) کی امید فروزاں قرار دیا۔ اور یہ ادارہ بعد ازیں دہلی منتقل ہو گیا اور آج کل بہ طور یونیورسٹی کام کر رہا ہے۔

دوسری کاوش 1892ء میں وسیع النظر اہل علم کی ایک مجلس کی صورت میں نظر آتی ہے، جو کانپور میں مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادی ( 1895ء) کی دعوت پر منعقد ہوئی۔ جس میں در پیش صورت حال کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا اور اسلامی روایت کو در پیش چیلنج کی تفہیم ، اس حوالے سے اسلامی طرز حیات پر غور و فکر ، مسلمانوں کے مابین بڑھتے ہوئے اختلاف و انتشار کے رجحان کی روک تھام ، اسلامی تعلیم کے زوال پذیر معیار کی بہتری ، نو آبادیاتی نظام تعلیم کے زیر اثر نوجوانوں کی ذہنی تربیت اسلامی مراکز تعلیم و تہذیب اور کتب خانوں کے تحفظ کی تدابیر (12) اور نو آبادیاتی نظام کے مسلمانوں پر جبر کے حربوں اور عیسائی مشنریوں کی اسلام کے حوالے سے جارحانہ حکمت عملی جیسے امور زیر بحث آئے۔

ان اہل علم میں مولانا محمد علی مونگیری، مولانا لطف اللہ علی گڑھی ، مولانا احمد حسن کانپوری، شاہ سلیمان پھلواری، مولانا محمود حسن شیخ الہند، مولانا خلیل احمد سہارن پوری، مولانا اشرف علی تھانوی مولانا فخر الحسن گنگوہی، مولانا شاء اللہ امرتسری اور مولانا نور محمد پنجابی شامل تھے۔ اس اجلاس کے تسلسل میں 1893ء میں ندوۃ العلما کی تشکیل عمل میں آئی، جس کے پہلے ناظم مولانا محمد علی مونگیری مقرر ہوئے، جب کہ تاسیسی ارکان میں مولانا شبلی نعمانی، مولانا محمد حسین بٹالوی ، مولانا احمد رضا خان بریلوی اور مولانا حبیب الرحمن خان شیروانی شامل تھے۔ گو یہ اور پھر تکفیر (13) ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ ان میں سے بعض حضرات نے بعد از میں ندوہ کو وہابی تحریک کا مرکز قرار دے کر اس پر کفر کا فتوی لگا کر رجعت بہتری کا مظاہرہ کیا۔ کی اس روش نے بر صغیر کے مذہبی ذہن پر اتنا گہرا اثر ڈالا کہ موجودہ بر صغیر کے معاشروں میں مذہبی تقسیم و تفریق کی ایک نمایاں سطح اس سے جڑی نظر آتی ہے۔

نو آبادیاتی دور میں مدارس کی تعلیمی کاوشوں کا جائزہ

نو آبادیاتی دور میں مدارس کے عنوان سے ہونے والی تعلیمی کاوشوں کا جائزہ لینے سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ ان مدارس کے نظام تعلیم کے پس منظر میں دو طرح کے رجحانات کام کر رہے تھے۔ غالب رجحان یہ تھا کہ مسلمانوں میں دین کی بنیادی تعلیم کو محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور معاشرے کی اساسی سطح کی مذہبی ضروریات کی تکمیل کی جائے۔ دوسر ارجحان نو آبادیاتی نظام کے فکری اثرات کے متبادل کے طور پر دین کے نظام فکر کی وضاحت اور اس کے لیے رجال کار کی تیاری کا تھا۔ گو رفتہ رفتہ پہلار جان ہی مدرسہ تعلیم کی پہچان بن گیا۔ پھر اس رجحان میں فرقہ واریت کے عنصر نے غلبہ پانا شروع کر دیا اور قیام پاکستان کے بعد بالعموم مدرسہ تعلیم اس رجحان کی اسیر ہو کر رہ گئی۔ معروف ماہر تعلیم اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئر مین ڈاکٹر شیر محمد زمان اس کا نتیجہ یوں بیان کرتے ہیں کہ دینی مدارس کے فارغ التحصیل طلبا کو نور و بشر کے مسئلہ روحانی بیعت کے وجوب ، آمین بالجہر ، آٹھ تراویح، جسم اطہر کا سایہ تھا یا نہیں، نذر و نیاز اور وسیلہ کے مسائل پر نہایت فصیح و بلیغ" (14) گفتگو کا اہل پائیں گے، مگر بر اور است قرآن کریم ، احادیث مبارکہ اور فقہائے عظام کے بارے میں گہری علمی موضوعات پر ان سے گفتگو حوصلہ شکنی کا باعث ہوتی ہے۔

یہ حقیقت ہے مدارس کے نظام تعلیم کے فرقہ وارانہ پہلو کا تعلق بر اور است ان کے نصاب تعلیم سے کم ہی ہے، لیکن ان کے انتظامی و تدریسی ذمہ داران کی غالب ترجیحات سے تعلق ضرور رکھتا ہے۔

چناں چہ اس وقت کم و بیش ایک جیسے نصاب کی تعلیم کے لیے قائم مدارس ، پانچ مذہبی علیمی بورڈز ( وفاق / تنظیم و غیر ہ ) میں تقسیم ہیں۔ جس سے معاشرے میں مذہبی تقسیم کو مسلسل غذا مہیا ہوتی رہتی ہے۔ گو ان بورڈز نے اتحاد تنظیمات مدارس کے نام سے ایک پلیٹ فارم تشکیل دے رکھا ہے اور اس کے ذریعے حکومتی دباؤ کے سامنے اپنے اتحاد کا مظاہرہ تو کرتے ہیں، مگر اپنے بورڈز کی فرقہ وارانہ سرحدوں کو ختم کرنے یا نرم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی سبب ہے کہ جب سرکاری سطح پر ان مدارس کی آخری سند شھادۃ العالمیہ کو ایم اے اسلامیات و عربی کے مساوی قرار دیا گیا تو ہر بورڈ نے اپنے حلقہ اثر میں اضافے کے لیے زیادہ سے زیادہ اسناد جاری کرنے کو مسلکی خدمت تصور کیا۔ نتیجتا ایسے افراد نے سکولز اور کالجز میں ملازمت کے (15) حصول کے بعد فرقہ وارانہ ذہن منتقل کرنا اپنی منصبی ذمہ داری تصور کیا۔

اور اس فرقہ وارانہ مسابقت کے نتیجے میں مدارس کار با سبا علمی معیار بھی داؤ پر لگ گیا ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے حال ہی میں سبکدوش ہونے والے چیئر مین مولانا محمد خان شیرانی کی رائے میں تو (16) وفاق المدارس نے تعلیم کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ مدرسہ سے فارغ ہونے والے کو نہ منشی بننے دیا اور نہ ہی مولوی رہنے دیا۔

اس کے علاوہ پاکستان میں مدارس کے نظام تعلیم نے اس سے وابستہ افراد کے (اساتذہ و طلبا ) کے معاشرے سے الگ تھلگ رہنے کو بھی یہ طور نظر یہ ترویج دی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ مسجد و مدرسے کے نظام کا بقائی اس میں ہے کہ ایک معقول تعداد اپنے آپ کو دوسرے تمام کاموں ، جدید علوم اور مروجہ فنون سے الگ تھلگ ہو کر اسی کام کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دے اور حلقہ مدارس اس کو یہ طور فخر ذکر کرتا ہے۔ مولانا زاہد الراشدی کہتے ہیں کہ :

اب تک تجربہ و مشاہدہ بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ دینی مدارس کے ارباب حل و عقد کی یہی حکمت عملی، جنوبی ایشیا کے مسلمانوں میں اب تک دینی حمیت و وابستگی کو باقی رکھنے، بلکہ (17) اسے پوری دنیائے اسلام میں امتیازی حیثیت پر فائر کرنے کا باعث بنی ہوئی ہے ۔

مدارس پر موجود نظام کے اثرات

گو بہ ظاہر مدرسہ کی تعلیم ، معاشرے کے طور و طریقوں مگر اس میں اس حوالے سے موجود خلا موجود نظام و ماحول کے اثرات سے بے ہنگم طریقے سے پر ہو تا رہا۔ کی، جو مذہب کے نام پر سیاسی گروہیت کی ترویج کی نمائندہ تھیں، جس میں مسائل کے حل فارغ اوقات میں ہم نصابی سر گرمیوں کے طور پر ایسی تحر کے لیے عسکری ذہنیت کی آبیاری کو اہمیت حا فرقہ وارانہ مواد کے ساتھ ساتھ یہ ظاہر غیر فرقہ وارانہ موضوعات میں سے اسلام اور تاریخ اور اس کے ساتھ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ چوں کہ مدر لام کا ایسا تصور اجاگر کیا گیا ہے، جس کا تعلق حقائق سے زیادہ خیالی یا رومانوی دنیا سے استوار ہوتا ہے۔ مذہب سے جذباتی وابستگی اور اس کے لیے قربانی کے قابل قدرجہ ما لیے اس کے ان جذبات سے کسی بالا دست قوت کا فائدہ اٹھانا دشوار نہیں ہوتا۔ چناں چہ مختلف مواقع پر پاکستان میں مذہبی تحریکات کے علاوہ سیاسی تحریکات جذبات کو بروئے کار لا کر ہی ان میں حدت و شدت پیدا کرنے کا اہتمام کیا گیا حتی کہ جب افغانستان میں سردار داود حکومت کے خاتمے پر ہونے والی کشمکش میں ۔ عنصر داخل ہوا اور امریکا و مغربی یورپ میں اس کے خلاف ایک بھر پور عالمی مہم کا آغاز ہوا تو پاکستانی مقتدرہ بھی اس کا حصہ بنی اور اس نے مدارس میں پرورش پانے والے ندا بے سود مند تصور کرتے ہوئے ان سے استفادے کی پالیسی وضع کی اور اس موقع پر پاکستان کے مذ ہبی حلقوں میں بھی اس کو فریضہ جہاد قرار دے کر اس کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کی گئیں۔

وفاق المدارس کے ناظم اعلی مولانا محمد حنیف جالندھری کے بہ قول :

"ہمارے مدارس کے طلبا نے چوں کہ کتاب الجہاد پڑھی ہوئی تھی، اس لیے وہ جہادی مہم میں پیش پیش رہے ۔ " (19)

حتی کہ امریکا جیسے سیکولر یا نیم مسیحی ملک نے بھی اپنے عالمی مفاد کے لیے اس جہادی بیانیہ کو فروغ دیا۔ اس کے بیان میں یہ مجاہدین ، ں کے خلاف انسانیت کے نجات دہندو تھے۔

حتی کہ امریکی صدر جمی کارٹر کے قومی سلامتی کے مشیر برزنسکی نے طور غم میں پاک افغان سرحد کی ایک پہاڑی چو کی پر کھر ا چوکی کھڑے ہو کر مرت بھرے لہجے میں یہ بھی کہ ڈالا کہ

"سرحد کے ہم محدوں کے زیر قبضہ مسجدوں سے اذان کی آواز نہ سن کر میر اول افسردہ ہو رہا ہے۔" (20)

قطع نظر اس کے کہ امن کے حالات میں بھی طور خم کی سرحد پر افغانستان سے اذان کی آواز سنائی دیتی ہے یا نہیں اور یہ کہ برزنسکی کے دورے کے وقت کسی نماز کے لیے اذان کا وقت آیا تھا یا نہیں، یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکی حکمت عملی اور پاکستان کے نظام ریاست نے مدارس کے نظام تعلیم کے نتائج کو بڑے شاطر انہ انداز میں اپنے حق میں استعمال کیا۔ حال آں کہ ان کے گزرتے ہیں مدارس کے نظام تعلیم کو حریفانہ نظر (Honeymoon Period) دونوں حالتوں میں دینی بعد پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1979ء سے 1992ء کے مبینہ خوشگوار دور سے دیکھا جانے لگا اور مدرسہ تعلیم کے نصاب میں تبدیلیوں پر زور دیا جانے لگا۔ 2001ء میں نیو یارک کے جڑواں ٹاورز کے انہدام کے واقعے (11/9) کے بعد سے مدارس کے نظام تعلیم کے بارے میں بحث میں تیزی آئی ہے۔ گو اس واقعے سے مدرسے کے کسی فارغ التحصیل شخص یا اشخاص کا کوئی تعلق نہیں تھا، مگر جس کے ہاتھ میں لاٹھی آجائے ، وہ اس کو جاو بے جا استعمال کرنا اپنا حق تصور کرتا ہے۔

مدارس کے نظام تعلیم کی ایک بنیادی خوبی

مدرسے کے نظام تعلیم کی اس بنیادی خوبی کا انکار کی بھی شخص کے لیے ممکن نہ ہو گا کہ اس میں طلبا کو دس سال سے زیادہ مفت تعلیم کی سہولت حاصل ہوتی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ان کی خوراک دلباس اور رہائش کی ضروریات بھی بلا معاوضہ ہوتی ہیں، جس سے یقینا پس ماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کو کچھ عرصے کے لیے اپنے بچوں کی فکر معاش سے آزادی حاصل ہو جاتی ہے ، جب کہ ملک کا جو عصری نظام تعلیم اس قسم کی کوئی سہولت دینے سے قاصر نظر آتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ سرکاری دباؤ کے باوجود دینی مدارس کی طرف طلبا کارجوع بدستور موجود ہے۔

حال ہی میں منظر عام پر آنے والے ڈوئچے ویلے کے سروے کے مطابق 2015ء میں دیوبندی کہلانے والے وفاق المدارس سے ملحق اٹھارہ ہزار چھ سو مدارس میں ہیں لاکھ کے قریب طلباو طالبات زیر تعلیم تھے۔ بریلوی کہلانے والی تنظیم المدارس کے نو ہزار مدارس میں تیرہ لاکھ کی تعداد، جماعت اسلامی کے رابطہ المدارس کے تحت ایک ہزار اٹھارہ مدارس کام کر رہے ہیں۔ اہل حدیث کے وفاق المدارس السلفیہ کے چودہ سو مدارس میں ہیں ہزار طلبا اور انیس ہزار طالبات کی تعداد نے تعلیم حاصل کی۔ شیعہ وفاق المدارس کے چار سو ساٹھ مدارس میں سولہ (21) ہزار سے اٹھارہ ہزار تک کی تعداد موجود رہی اور تمام مذہبی بورڈز نے 2014ء کے مقابلے میں 2015ء میں طلبا و طالبات کی تعد اد میں قابل ذکر اضافے کی نشان دہی کی ہے۔

نو آبادیاتی نظام کے نصاب اور نظام تعلیم پر برے اثرات

ملکی نظام میں نصاب تعلیم کا موضوع اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے۔ نہ صرف مدارس بلکہ سکولز ، کالجز اور یونیورسٹیز کے نصابات میں جو فرسودگی موجود ہے، اس کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کیوں کہ ریاست کا مجموعی نظام ہی بیسویں صدی کے فرسودہ نو آبادیاتی ورثے کا نمائندہ اور تن ہمہ داغ داغ کی منہ بولتی تصویر ہے۔

در اصل مدرسہ تعلیم کے نصاب میں رد و بدل سے زیادہ اہم ان مقاصد کا تعین ہے، جن کی اساس پر باقی نظام کا تانا بانا پر کھا جا سکتا ہے۔ 1947ء کے بعد ملک میں نظام تعلیم اسی ڈگر پر رواں رہا، جو 1947ء سے قبل حالات کے جبر نے متعین کر دی تھی۔ چناں چہ مدرسہ تعلیم میں گرد و پیش سے لا تعلقی کارجحان اور مسلکی فرقہ واریت کا فروغ غالب عنصر رہا اور بعد از میں اس میں افغان جہاد اور ایرانی انقلاب کے بعد انتہا پسندی اور عسکریت پر وری نے بھی اپنی جگہ بنالی۔ عام طور پر ان امور کو مدرسے تعلیم کے نصاب کا شاخسانہ تصور کیا جاتا ہے ، اور پھر اس میں انگریزی، کمپیوٹر سائنس اور دیگر چند مضامین کے اضافے کو اس کا علاج تصور کیا جاتا ہے ، حال آں کہ عالمی سطح پر اب تک جن معروف ناموں کی دہشت گردی کے حوالے سے نقاب کشائی ہوئی ہے ، وہ انگریزی کمپیوٹر سائنس، بیالوجی، ریاضی و غیرہ علوم سے کسی صورت بے بہرہ نہیں ہیں، بلکہ ان میں سے کئی ایک تو مدارس کے نظام تعلیم سے مکمل طور پر آگاہ بھی نہیں۔ میں بر صغیر کی آزادی کے بعد پاکستان میں قومی بیانیے کے فقدان نے ہر شعبے میں فرسودگی اور جود کو محکم کیا ہے۔ چناں چہ قومی نظام تعلیم کے تحت فکر کے زاویے متعین نہ ہونے 1947 کی وجہ سے ملکی نظام تعلیم افراتفری کا شکار نظر آتا ہے۔ مدرسہ کا نظام تعلیم اپنے اندر کی پہلو رکھتا ہے۔ اگر اس کے ذریعے ایسے افراد کی تیاری مقصود ہے جو معاشرے کو محدود اور پرائمری مذہبی رہنمائی فراہم کر سکیں تو اس کے لیے ضروری نہیں کہ کئی سالوں پر مشتمل نصاب تعلیم ”درسِ نظامی کی تعلیم مہیا کی جائے، اس کے لیے مختصر عرصے کا نصاب تجویز کیا جا سکتا ہے۔ جب کہ تمدنی اور تہذیبی رہنمائی کی افراد سازی کے لیے مدرسہ تعلیم کے مقاصد اور اس کے مطابق نصابات کا تعین از بس ضروری ہے۔

مدارس کی اعلی تعلیم کے بنیادی مقاصد اور قومی نظام کے ساتھ ہم آہنگی

در اصل مدرسے کی اعلیٰ تعلیم کا بنیادی مقصد ایسے رجال کار کی تعلیم و تربیت ہونی چاہیے

01

جو آج کے معاشرے کی تشکیل میں اسلام کی بنیادی اقتدار ؛ وحدت انسانیت، عدل اجتماعی، با مقصد و با معنی مشاورت، تاریخی تسلسل و ارتقا، شعور د تشکر پر پنی وسعت نظری وغیرہ کی اساس پر معروضی تقاضوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

02

آج کے سماجی علوم (عمرانیات، معاشیات، نفسیات، تاریخ، سیاسیات ، شہریت، بین الاقوامی امور ، جغرافیہ، فلسفہ ، انتظامیات وغیرہ) کی روح اور ان کے منابع فکر کا ادراک و شعور رکھتے ہوں اور طبعی علوم کے بارے میں مثبت سوچ رکھتے ہوں۔

03

در پیش عصری تحدیات کارد عمل کی نفسیات سے بالا تر ہو کر اسلامی تعلیمات و تعاملات کی روشنی میں درست خطوط پر تجزیہ کرنے اور ان کا با معنی اور معروضی انداز میں جواب دینے کی اہلیت رکھتے ہوں۔

04

معاشرے کی وحدت کو بہر صورت فردی، گروہی اور شخصی اختلافات سے بالاتر رکھنے کا سلیقہ رکھتے ہوں

05

ان کا مطمح نظر مراعات یافتہ یا اختیارات رکھنے والے عناصر کی طفیلیت سے کہیں بلند تر اور اعلیٰ اخلاقی کردار کا حامل ہو۔

اس سطح کے رجال کار کے لیے نصاب تعلیم سے زیادہ مقاصد تعلیم اہمیت رکھتے ہیں۔ ابتداء موجو دہ درس نظامی کے نصاب میں پیش نظر معاشرے کو رہنمائی فراہم کرنے اور ریاستی نظام میں کردار ادا کرنے کے مقاصد پیش نظر تھے ، اس لیے اس میں شامل کتب سے مقصود طلبا میں تحقیق و تدقیق کا جذ بہ ابھار نا مقصود تھا۔ اس بنا پر ایک ایک موضوع پر کئی تصانیف نصاب میں شامل کی گئیں، تاکہ طالب علم مختلف اسالیب تصنیف و تالیف سے آگاہ ہو اور اس میں دقیقہ رس مزاج کی آبیاری ہو، لیکن یہ کاوش اس وقت مفید ثابت ہو سکتی ہے جب طالب علم کے ذہن کو تنگ نظری اور جمود کے بجائے وسعت نظری، حریت فکر اور سوچ کے ارتقا سے روشناس کرایا جائے۔

ان مقاصد کے ساتھ ساتھ مرے کے نظام قلم کار کی نظام علی کے ایک حصے کے طور پیشہ کہ ایک متوازی نظام کے طور پر ترویج دی جائے گی تو اس سے نظام تعلیم کی محویت سے پیدا شدہ طبقاتی تقسیم کا انسداد ہو سکے گا۔ اس سلسلے میں بنگلا دیش کا ماڈل پاکستان کے مقابلے میں کہیں بہتر نظر آتا ہے۔

ڈاکٹر ممتاز احمد کا مشاہدہ

 معروف بین الا قوامی سکالر ڈاکٹر ممتاز احمد اپنے مشاہدات کا یوں ذکر کرتے ہیں

بنگلا دیش میں عالم اسلام کے سب سے زیادہ عربی مدارس ہیں، جن سے ساٹھ لاکھ افراد کسی نہ کسی حیثیت سے وابستہ ہیں۔ ان میں سرکاری، نیم سرکاری اور قومی ( نجی ) مدارس شامل ہیں۔ تمام مدارس میں سائنس، شہریت، جغرافیہ ، انگریزی اور بنگلا زبان پر مشتمل پرائمری تعلیم ، نصاب درس نظامی کا لازمی حصہ ہے۔ کئی مدارس میں جدید فنی مضامین کی تعلیم کا بھی انتظام ہے۔ اس وقت بنگلا دیش کی سول سروس، آرمی اور بنگ کاری میں بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو درس نظامی کی مکمل طور پر ماہر ہے۔ بڑے شہروں میں قائم یونیورسٹیز میں فارسی، اردو، عربی، اسلامی تاریخ اور علوم اسلامیہ کے شعبوں کے سوفی صد اساتذہ مدارس کے گریجوئیٹس ہیں۔ ان مدارس کے لیے قومی بجٹ میں ایک مناسب خطیر رقم رکھی جاتی ہے۔ ( یہ رقم 2000ء کے بجٹ  (22) میں 5 ارب بنگلا دیشی نکا تھی۔

جس طرح ملک کا قومی نظام تعلیم تین سطحوں پرائمری و مدل ثانوی و اعلیٰ ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر مشتمل ہے ، اس انداز میں مدارس کے نظام تعلیم کو تین سطحوں کے ساتھ قومی نظام تعلیم کے ساتھ ہم آہنگ کیا جانا چاہیے۔ اس سے ملکی نظام تعلیم کی معنویت کی جگہ وحدت اپنی جگہ بنا سکتی ہے، جس سے ملک کو تعلیمی فرقہ واریت سے گلو خلاصی حاصل ہوگی۔

لہذا تجویز کیا جاتا  ہے کہ

01

اچھی تجوید کے ساتھ مکمل قرآن حکیم کی تعلیم ، بنیادی اسلامی تصورات، مطالعہ سیرت النبی اور طہارت و نماز کے مسائل سے بنیادی واقفیت پر مبنی نصاب کو ملک کے قومی نظام تعلیم میں پرائمری و نڈل سکول سطح کی تعلیم کا لازمی جزو بنادیا جائے اور اس مقصد کے لیے مساجد کو اس سطح کی تعلیم میں بہ طور مرکز پیش نظر رکھا جانا موزوں ہو گا۔ اس نصاب سے مساجد میں نظام اذان واقامت اور بچوں کی بنیادی مذہبی تعلیم کے لیے افراد کار مہیا ہو سکیں گے۔

02

اسلام کے نظام عبادات ، عائلی نظام اور اخلاقی نظام پر مشتمل قرآن وحدیث کی نصوص اور فقہاء صوفیا کی متعلقہ کتب کا مطالعہ ، سیرت النبی اور خلافت راشدہ کے ادوار کا مطالعہ اور کے طور پر حصہ (Group of Studies) معاشرے کے رسم و رواج اور نفسیات سے آگہی، اس نصاب کا حصہ ہو۔ اس سطح کے نصاب کو ثانوی و اعلیٰ ثانوی نظام تعلیم کے مجموعہ مضامین بنایا جانا مناسب ہو گا۔ اس نصاب سے مساجد میں نظام امامت و خطابت اور دینی رہنمائی کے لیے موزوں افراد کا ابھی تربیت حاصل ہو گی۔

03

مختلف شعبہ ہائے علوم اسلامیہ ( تفسیر، حدیث، فقہ ، کلام ، تصوف، اقتصادی، سماجیات وغیرہ) کے لیے تخصصات پر مشتمل نصاب کے مقاصد کی گزشتہ سطور میں نشان دہی کی گئی ہے۔ اس اپنے ذریعے ایسے اساتذہ و محققین کی صلاحیت کی افراد سازی ہو ، جو امت کے تہذیبی و تمدنی مسائل میں رہنما کر دار ادا کر سکیں۔ اس سطح کے نصاب کو یونیورسٹی سطح سے ہم آہنگ کیا جا سکتا

ہے۔

بنیادی بات یہ ہے کہ ملکی نظام جب تک ہر باشندے تک مطلوبہ تعلیم کی مفت رہنمائی کو یقینی نہیں بنانا اور تعلیم کی فراہمی کو کاروباری استحصالی ذہنیت سے بالاتر قومی مشن قرار نہیں دیا جاتا، اس وقت اتک معاشرے میں فرقہ واریت، گروہیت، طبقاتیت، تنگ نظری انتہا پسندی، عسکریت پسندی و غیر ہ کے انسداد کے منصوبے شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتے۔

 


Download PDF

إرسال تعليق

Type Your Feedback